تریاق القلوب — Page 165
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۶۵ تریاق القلوب محفوظ رکھیں جن کی راہ سے بدی داخل ہو سکتی ہے۔ سوراخ کے لفظ میں جو آیت ممدوح میں مذکور ہے آلات شہوت اور کان اور ناک اور منہ سب داخل ہیں ۔ اب دیکھو کہ یہ تمام تعلیم کس شان اور پایہ کی ہے جو کسی پہلو پر نامعقول طور پر افراط یا تفریط سے زور نہیں ڈالا گیا اور حکیمانہ اعتدال سے کام لیا گیا ہے۔ اور اس آیت کا پڑھنے والا فی الفور معلوم کر لے گا کہ اس حکم سے جو کھلے کھلے نظر ڈالنے کی عادت نہ ڈالو یہ مطلب ہے کہ تا لوگ کسی وقت فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں ۔ اور دونوں طرف مرد اور عورت میں سے کوئی فریق ٹھو کر نہ کھاوے لیکن انجیل میں جو بے قیدی اور کھلی آزادی دی گئی اور صرف انسان کی مخفی نیت پر مدار رکھا گیا ہے اس تعلیم کا نقص اور خامی ایسا امر نہیں ہے کہ اس کی تصریح کی کچھ ضرورت ہو۔ اب ہم پھر اپنے اصل مقصد کی طرف عود کر کے تمام مسلمانوں اور بالخصوص علماء اسلام اور فقراء اسلام کی نسبت تبلیغ کا حق پورا کرتے ہیں اور اُن کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ مجدد جو اس چودھویں صدی کے سر پر ہمو جب حدیث نبوی کے آنا چاہیے تھا۔ وہ یہی راقم ہے۔ یہ بات جلد عقلمند اور منصف مزاج کو سمجھ آسکتی ہے کہ ہر ایک مجددان مفاسد کے دور کرنے کے لئے مبعوث ہوتا ہے جو زمین پر سب سے زیادہ خطر ناک اور سب سے زیادہ موجب ہلاک اور نیز سب سے زیادہ کثرت میں ہوتے ہیں۔ اور اُنہی خدمات کے مناسب حال اس مجدد کا نام آسمان پر ہوتا ہے۔ اور جب کہ یہ بات واقعی اور صحیح ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس پر آشوب زمانہ میں جب کہ لوگ چاروں طرف عیسائیت کی پر زہر تعلیم سے ہلاک ہوتے جاتے ہیں۔ بڑا کام مجدد کا یہ ہونا چاہیے کہ اہل اسلام کی ذریت کو اس زہر سے بچاوے۔ اور صلیبی فتنوں پر اسلام کو فتح بخشے ۔ اور جب کہ اس صدی کے مجدد کا یہ کام ہوا تو بلا شبہ آسمان پر اُس کا نام