تریاق القلوب — Page 164
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۶۴ تریاق القلوب ایسی تعلیم ہے کہ جو ایک بدنیت انسان کو بدنظری کا موقع دیتی ہے اور ایک نیک انسان کو امتحان میں ڈالتی ہے کیونکہ اس فتوے سے بدنظری کی عادت والے کو پناہ ملتی ہے اور ایک پر ہیز گار کے دل کو بدی کے سرچشمہ سے قریب ہونا پڑتا ہے وجہ یہ کہ ممکن ہے کہ ایک سادہ دل انسان ایک شخص کے حسن و جمال کو دیکھ کر اُس پر شیدا اور فریفتہ ہو جائے اور پھر ہر دم ناپاک خیال دل میں پیدا ہونے لگیں۔ پس اس تعلیم کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کہ ایک عمارت مثلاً دریا کے اُس رخ کی طرف بنائی جائے جس طرف وہ دریا بڑے زور اور سیلاب کے ساتھ قدم بڑھا رہا ہے پس ایسی عمارت اگر دن کو نہیں گرے گی تو رات کو ضرور گر جائے گی۔ اسی طرح اگر کوئی عیسائی اس تعلیم سے عقل اور حیا اور انسانیت کے نور کے ہوتے ہوئے جو دن سے مشابہت رکھتا ہے بدی میں نہیں پڑے گا لیکن جوانی کی حالت اور جذبات نفس کے وقت میں خصوصاً جبکہ شراب کے پینے کی حالت میں شہوانی تاریکیوں کے ہجوم سے رات پڑ جائے ایسی حالت میں اس بے قیدی کی نظر کے بدنتائج سے ہرگز نہیں بچ سکے گا لیکن اس تعلیم کے مقابل پر وہ تعلیم جو قرآن شریف نے دی ہے ۲۰ وہ اس قدر اعلیٰ ہے جو دل بول اُٹھتا ہے کہ ہاں یہ خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذلك از کی لَهُمْ یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم اور محل شہوت کے دیکھنے سے اپنی آنکھیں اس قدر بند رکھیں کہ پوری صفائی سے چہرہ نظر نہ آسکے اور نہ چہرہ پر کشادہ اور بے روک نظر پڑ سکے ۔ اور اس بات کے پابندر ہیں کہ ہرگز آنکھ کو پورے طور پر کھول کر نہ دیکھیں نہ شہوت کی نظر سے اور نہ بغیر شہوت سے کیونکہ ایسا کرنا آخر ٹھوکر کا باعث ہے یعنی بے قیدی کی نظر سے نہایت پاک حالت محفوظ نہیں رہ سکتی اور آخر ابتلا پیش آتا ہے اور دل پاک نہیں ہو سکتا جب تک آنکھ پاک نہ ہو اور وہ مقام از کسی جس پر طالب حق کے لئے قدم مارنا مناسب ہے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اور اس آیت میں یہ بھی تعلیم ہے کہ بدن کے ان تمام سوراخوں کو النور : ٣١