تریاق القلوب — Page 157
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۵۷ تریاق القلوب قرآن شریف کی یہ تعلیم نہیں ہے اور نہ کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ کوئی خونی مہدی یا خونی مسیح آئے گا جو جبر مسلمان کرے گا اور انسانوں کو قتل کرنا اس کا کام ہوگا ۔ جس مہدی یا مسیح نے آنا تھا وہ آچکا ۔ کیا ضرور نہ تھا کہ وہ مسیح غلبہ صلیب کے وقت آتا؟ کیا سب سے اول درجہ (۱۲) کی علامت مسیح موعود کی یہ نہیں ہے کہ وہ صلیب کے غلبہ میں آئے گا۔ اب خود دیکھ لو کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں صلیبی مذہب کس قدر ترقی کرتا گیا اور کس قدر نہایت سرعت کے ساتھ اس کا قدم دن بدن آگے ہے۔ ایسی قوم ملک ہند میں کونسی ہے جس میں سے ایک جماعت اس مذہب میں داخل نہیں کی گئی ۔ کروڑ ہا کتا بیں اور رسالے دین اسلام کے رڈ میں شائع ہو چکیں یہاں تک کہ امہات المومنین جیسی گندی کتاب بھی تمہاری تنبیہ کے لئے عیسائیوں کے ہاتھ سے شائع ہوئی۔ بیچاری چودھویں صدی میں سے بھی جس پر ایسی ضرورت کے وقت میں مجدد نے آنا تھا سولہ برس گزر گئے لیکن آپ لوگوں نے اب تک مسیح موعود کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ زمین نے صلیبی مذہب کے غلبہ کی وجہ سے مسیح موعود کی ضرورت پر گواہی دی اور آسمان نے خسوف کسوف کو رمضان میں عین مقررہ تاریخوں پر دکھلا کر اُس مہدی معہود کے ظاہر ہو جانے کی شہادت دی۔ اور جیسا کہ مسیح کے وقت کی نشانی لکھی تھی اونٹوں کی سواری اور بار برداری میں بھی ریل گاڑیوں نے فرق ڈال دیا اور جیسا کہ علامات میں لکھا تھا ملک میں طاعون بھی پھوٹی حج بھی روکا گیا اور اہل کشف نے بھی اسی زمانہ کی خبر دی اور نجومی بھی بول اُٹھے کہ مسیح موعود کا یہی وقت ہے اور جس نے دعوی کیا اُس کا نام بھی یعنی غلام احمد قادیانی ہلا نوٹ ۔ اخبار ڈان میں جس سے پرچہ ٹریبیون مورمحہ ۱۸ جولائی ۱۸۹۹ء نے نقل کیا ہے ایک فاضل منجم کی یہ پیشگوئی شائع کی گئی ہے کہ ۱۹۰۰ عیسوی کے ساتھ ایک نیا دور شروع ہوتا ہے اور یہ دونوں سن یعنی ۱۸۹۰ء تا ۱۹۰۰ ء ایک عظیم الشان دوره ختم کرتے ہیں جس کے خاتمہ پر سورج منطقة البروج کے ایک نئے برج میں داخل ہوتا ہے اور اس ہیئت کی تاثیر سے یعنی جبکہ سورج ایک نئے برج میں داخل ہو جیسا کہ قدیم سے ہوتا رہا ہے ۱۹۰۰ ء میں زمین پر مسیح کلمتہ اللہ کا ایک نیا اوتار اور خدا کا ایک نیا مظہر ظہور کرے گا اور وہ مسیح کا مثیل ہوگا اور دنیا کو بیدار کر کے ایک اعلیٰ زندگی بخشے گا۔ دیکھوٹر پیون ۱۸ جولائی ۱۸۹۹ء مطبوعہ لاہور منه