تریاق القلوب — Page 156
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۵۶ تریاق القلوب جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ میں اس سلطنت کا بدخواہ ہوتا یا کوئی ناجائز باغیانہ منصوبے اپنی جماعت میں پھیلا تا جبکہ میں ہمیں برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا۔ اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں ۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصو بہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہوں میں ان کو سخت نادان بد قسمت ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو دل میں مجھے کچھ کہو ۔ گالیاں نکالو یا پہلے کی طرح کا فر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہو سکے سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے۔ بہتیرے ایسے مسلمان ہیں جن کے دل کبھی صاف نہیں ہوں گے۔ جب تک اُن کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ خونی مہدی اور خونی مسیح کی حدیثیں تمام افسانہ اور کہانیاں ہیں۔ اے مسلمانوں اپنے دین کی ہمدردی تو اختیار کرو مگر سچی ہمدردی ۔ کیا اس معقولیت کے زمانہ میں دین کے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہیں۔ کیا جبر کرنا اور زور اور تعدی سے اپنے دین میں داخل کرنا اس بات کی دلیل ہوسکتی ہے کہ وہ دین خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے؟ خدا سے ڈرو اور یہ بیہودہ الزام دین اسلام پر مت لگاؤ کہ اس نے جہاد کا مسئلہ سکھایا ہے اور زبردستی اپنے مذہب میں داخل کرنا اس کی تعلیم ہے۔ معاذ اللہ ہرگز