تریاق القلوب — Page 154
۱۵۴ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اور نیز پیشگوئی کی گئی تھی کہ لڑکا ہوگا لیکن لڑکی ہوئی اور پھر لڑکا (۱۴) ہوا تو مر گیا۔ ہاں بعد میں چارلڑ کے ضرور ہو گئے ۔ سو آتھم کی نسبت ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ الہامی شرط کے موافق وہ پیشگوئی کمال صفائی سے پوری ہوگئی۔ بھلا تم ہی بتلاؤ کہ جس الہام میں صریح شرط تھی اور قرائن ثابت شدہ نے بتلا دیا تھا کہ آتھم نے کسی حد تک اس شرط کی ضرور پابندی کی تو کیا ضرور نہ تھا کہ اس پابندی سے آتھم فائدہ اُٹھاتا۔ کیا خدا تعالیٰ پر تخلف وعدہ جائز ہے؟ کیا روا ہے کہ وہ کسی رعایت اور درگذر کا وعدہ کر کے پھر اس وعدہ کا کچھ لحاظ نہ رکھے۔ یونس نبی کے الہام میں کوئی بھی شرط نہ تھی تب بھی تو بہ کرنے والوں نے اپنی تو بہ سے فائدہ اٹھایا۔ پھر آ ھم صریح شرط سے کیوں تھوڑا سا فائدہ نہ اٹھا لیتا؟ کیا تم کہہ سکتے ہو کہ ہستم ایسا اپنی عیسائیت کے تعصب پر قائم رہا کہ کچھ بھی خوف نہیں کیا اور رجوع کی شرط کو چھوا بھی نہیں۔ اس بات پر آفتاب کی طرح دلائل چمک رہے ہیں کہ آتھم پیشگوئی کے سننے کے بعد اپنے پہلے تعصب اور سخت زبانی اور عادت مقابلہ اسلام پر قائم نہ رہ سکا۔ اور وہ پیشگوئی کو سن کر اس طرح دہشت زدہ ہو گیا جس طرح بجلی کو دیکھ کر ایک بچہ دہشت زدہ ہو جاتا ہے اور اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کر لی اور غریب طبع ہو گیا۔ اگر اب بھی کوئی اپنے تعصب اور بخل کو نہ چھوڑے تو بجر اس کے کیا علاج ہے کہ ہم اس کو یہ بات کہ کر چھوڑ دیں کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِین ۔ اور یادر ہے کہ لڑکی پیدا ہونا یا ایک لڑکا پیدا ہوکر مر جانا اس سے الہام کو کچھ تعلق نہ تھا۔ الہام یہ بتلاتا تھا کہ چارلڑ کے پیدا ہوں گے اور ایک کو ان میں سے ایک مرد خدا مسیح صفت الہام نے بیان کیا ہے۔ سوخدا تعالیٰ کے فضل سے چارلڑ کے پیدا ہو گئے ۔ ہمارا کوئی الہام ایسا نہیں ہے جس کا یہ مضمون ہو کہ پہلے حمل میں لڑکا ہی پیدا ہوگا یا دوسرے حمل میں جولڑ کا پیدا ہوگا وہ جیتا رہے گا۔ ہاں اگر ہم نے محض اپنے اجتہاد سے یہ خیال کیا ہو کہ شاید یہی لڑکا مردان خدا میں سے ہوگا تو یہ الہام الہی پر الزام نہیں۔ ہم اپنی اجتہادی ہاتوں کو خطا سے معصوم نہیں سمجھتے ۔ ہمیں ملزم کرنے کے لئے