تریاق القلوب — Page 139
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۳۹ تریاق القلوب بلکہ وہ بلند تر آسمان پر اپنے ملیک مقتدر کے دائیں طرف بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔ اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَبَارِكْ وَسَلَّمَ - إِنَّ اللهَ وَمَلَ بِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اب ہمیں کوئی جواب دے کہ روئے زمین پر یہ زندگی کسی نبی کے لئے بجز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ثابت ہے؟ کیا حضرت موسیٰ کے لئے ؟ ہر گز نہیں۔ کیا حضرت داؤد کے لئے ؟ ہر گز نہیں۔ کیا حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے ؟ ہر گز نہیں ۔ کیا راجہ رام چندر یا راجہ کرشن کے لئے ؟ ہرگز نہیں۔ کیا وید کے اُن رشیوں کے لئے جن کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ اُن کے دلوں پر وید کا پر کاش ہوا تھا؟ ہر گز نہیں ۔ جسمانی زندگی کا ذکر بے سود ہے اور حقیقی اور روحانی اور فیض رساں زندگی وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی زندگی کے مشابہ ہوکر نور اور یقین کے کرشمے نازل کرتی ہو ور نہ جسمانی وجود کے ساتھ ایک لمبی عمر پانا اگر فرض بھی کر لیں اور فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ ایسی عمر کسی کو دی گئی ہے تو کچھ بھی جائے فخر نہیں۔ مصر کی بعض پرانی عمارتیں ہزار ہا برس سے چلی آتی ہیں اور بابل کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں جن میں اُلو بولتے ہیں اور اس ملک میں اجودھیا اور بند را بن بھی پرانے زمانہ کی آبادیاں ہیں۔ اور اٹلی اور یونان میں بھی ایسی قدیم عمارتیں پائی جاتی ہیں تو کیا اس جسمانی طور پر لمبی عمر پانے سے یہ تمام چیز میں اُس جلال اور بزرگی سے حصہ لے سکتی ہیں جو روحانی زندگی کی وجہ سے خدا کے مقدس لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اب اس بات کا فیصلہ ہو گیا ہے کہ اس روحانی زندگی کا ثبوت صرف ہمارے نبی علیہ السلام کی ذات بابرکات میں پایا جاتا ہے۔ خدا کی ہزاروں رحمتیں اس کے شامل حال رہیں ۔ افسوس کہ عیسائیوں کو کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی روحانی زندگی ثابت کریں اور صرف اُس لمبی عمر پر خوش نہ ہوں جس میں اینٹ اور پتھر بھی شریک ہو سکتے ہیں ۔ بے سود ہے وہ زندگی جو نفع رساں نہیں ۔ اور لا حاصل ہے وہ بقا الاحزاب : ۵۷