تریاق القلوب — Page 137
روحانی خزائن جلد ۱۵ رہے ۱۳۷ تریاق القلوب اراده از لی ایس زمان و وقت آورد چیستی که ز تو رو این قضا باشد مرد به بی خردی نزد ما بیا و نشیں کہ ظل اہل صفا موجب شفا باشد مقیم حلقہ ابرار باش روزے چند مگر عنایت قادر گرہ کشا باشد نجستہ زمانے کہ سوئے ما آئی زے نصیب تو گر شوق و التجا باشد چه جورہا کہ تو بر نفس خود کئی بیمات ہزار حیف بریں فطنت و ذکا باشد چه حاجتت که رنجے کشی بتالیفات که امتحان دعا گو ہم از دعا باشد بہ روئے یار کہ ہرگز نہ رتبتے خواہم مگر اعانت اسلام مدعا باشد سیاه باد رخ بخت من اگر به دلم دگر غرض بجز از یار آشنا باشد ره خلاص کجا باشد آن سیه دل را کہ با چنیں دل من در پئے جفا باشد چوسیل دیده ما بیچ سیل و طوفاں نیست بترس دیں کہ چنیں سیل پیش پا باشد ز آہ زمرہ ابدال بایدت ترسید علی الخصوص اگر آو میر زا باشد جیسا کہ ہم نے اس فارسی قصیدہ میں جو او پر لکھا گیا ہے یہ بتلایا ہے کہ خدا کے کامل مامورین کی علامتوں میں سے ایک یہ علامت ہے کہ اُن سے آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ہم اس جگہ ہزار ہزار شکر کے ساتھ لکھتے ہیں کہ وہ تمام علامتیں اس بندۂ حضرت احدیت میں پوری ہوئیں۔ اس زمانہ میں پادریوں کا متعصب فرقہ جو سراسر حق پوشی کی راہ سے کہا کرتا تھا کہ گویا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا اُن کو خدا تعالیٰ نے سخت شرمندہ کرنے والا جواب دیا اور کھلے کھلے نشان اس اپنے بندہ کی تائید میں ظاہر فرمائے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ انجیل کے واعظ بازاروں اور گلیوں اور کوچوں میں نہایت دریدہ دہانی سے اور سراسر افترا سے ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء اور افضل الرسل والاصفیاء اور سید المعصومین والاتقیاء حضرت محبوب جناب احدیت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت