تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 769

تریاق القلوب — Page 137

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۳۷ تریاق القلوب ارادہ ازلی این زمان و وقت آورد تو چیستی که ز تو رد این قضا باشد مرو به بی خردی نزد ما بیا و نشیں کہ ظل اہل صفا موجب شفا باشد مقیم حلقه ابرار باش روزے چند مگر عنایت قادر گره کشا باشد زہے نجستہ زمانے کہ سوئے ما آئی زہے نصیب تو گر شوق و التجا باشد چہ جو رہا کہ تو بر نفس خود کنی ہیہات ہزار حیف بریں فطنت و ذکا باشد ۵ چه حاجتت که رنجے کشی تالیفات بہ روئے یار کہ ہرگز نہ رتبتے خواہم سیاه باد رخ بخت من اگر به دلم که امتحان دعا گو هم از دعا باشد مگر اعانت اسلام مدعا باشد دگر غرض بجز از یار آشنا باشد ره خلاص کجا باشد آن سیه دل را که با چنیں دل من در پئے جفا باشد چوسیل دیده ما هیچ سیل و طوفاں نیست بترس زیں کہ چنیں سیل پیش پا باشد ز آه زمرہ ابدال بایدت ترسید علی الخصوص اگر آه میرزا باشد جیسا کہ ہم نے اس فارسی قصیدہ میں جو او پر لکھا گیا ہے یہ بتلایا ہے کہ خدا کے کامل مامورین کی علامتوں میں سے ایک یہ علامت ہے کہ اُن سے آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں ۔ ایسا ہی ہم اس جگہ ہزار ہزار شکر کے ساتھ لکھتے ہیں کہ وہ تمام علامتیں اس بندہ حضرت احدیت میں پوری ہوئیں۔ اس زمانہ میں پادریوں کا متعصب فرقہ جو سراسر حق پوشی کی راہ سے کہا کرتا تھا کہ گویا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا اُن کو خدا تعالیٰ نے سخت شرمندہ کرنے والا جواب دیا اور کھلے کھلے نشان اس اپنے بندہ کی تائید میں ظاہر فرمائے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ انجیل کے واعظ بازاروں اور گلیوں اور کوچوں میں نہایت دریدہ دہانی سے اور سراسر افترا سے ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء اور افضل الرسل والاصفیاء اور سید المعصومین والاتقیاء حضرت محبوب جناب احدیت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت