توضیح مرام — Page 96
روحانی خزائن جلد ۳ ۹۶ توضیح مرام سے نبوت اور ولایت کو کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اور ان کی شان بلند میں کچھ بھی فرق نہیں آتا اور کوئی التباس حیران کرنے والا واقعہ نہیں ہوتا کیونکہ درمیان میں ایک ایسا فرق بین ہے کہ جو بدیہی طور پر ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خواص اور عام کی خواہیں اور مکاشفات اپنی کیفیت اور کمیت اتصالی و انفصالی میں ہرگز برابر نہیں ہیں ۔ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے خاص بندے ہیں وہ خارق عادت کے طور پر نعمت غیبی کا حصہ لیتے ہیں ۔ دنیا ان نعمتوں میں جو انہیں عطا کی جاتی ہیں صرف ایسے طور کی شریک ہے جیسے شاہ وقت کے خزانہ کے ساتھ ایک گدا در یوزه گر ایک درم کے حاصل رکھنے کی وجہ سے شریک خیال کیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اس ۸۷ ادنی مشارکت کی وجہ سے نہ بادشاہ کی شان میں کچھ شکست آسکتی ہے اور نہ اس گدا کی کچھ شان بڑھ سکتی ہے اور اگر ذرہ غور کر کے دیکھو تو یہ ذرہ مثال مشارکت ایک کرم شب تاب بھی جس کو پیٹ بھیجنا یا جگنو بھی کہتے ہیں آفتاب کے ساتھ رکھتا ہے تو کیا وہ اس مشارکت کی وجہ سے آفتاب کی عزت میں سے کوئی حصہ لے سکتا ہے۔ سو جانا چاہیے کہ در حقیقت تمام فضیلتیں باعتبار اعلیٰ درجہ کے کمال کے جو کمیت اور کیفیت کی رو سے حاصل ہو پیدا ہوتی ہیں یہ نہیں کہ ایک حرف کی شناخت سے ایک شخص ایک فاضل اجل کا ہم پایہ ہو جائے گا یا اتفاقاً ایک مصرعہ بن جانے سے بڑے شاعروں کا ہم پلہ کہلائے گا۔ ذرہ مثال شراکت سے کوئی نوع حکمت یا حکومت کی خالی نہیں۔ اگر ایک بادشاہ سارے جہان کی حکومت کرتا ہے تو ایسا ہی ایک مزدور آدمی اپنی جھونپڑی میں اپنے بچوں اور اپنی بیوی پر حاکم ہے۔ رہی یہ بات کہ خدائے تعالیٰ نے نیک بختوں اور بدبختوں میں مشارکت کیوں رکھی اور تخم کے طور پر غافلین کے گروہ کو عمت غیبی کا کیوں حصہ دیا۔ اسکا جواب یہ ہے کہ الزام اور اتمام حجت کے لئے تا اس تخمی شراکت کی وجہ سے