توضیح مرام — Page 95
روحانی خزائن جلد ۳ ۹۵ بدکاروں کو بھی سچی خوا ہیں آجاتی ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ بچے نکلتے ہیں۔ پس جبکہ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے تیں نبی یا کسی اور خاص درجہ کے آدمی تصور کرتے ہیں ایسے ایسے بد چلن آدمی بھی شریک ہیں جو بد چلنیوں اور بدمعاشیوں میں چھٹے ہوئے اور شہرہ آفاق ہیں تو نبیوں اور ولیوں کی کیا فضیلت باقی رہی۔ سو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ در حقیقت یہ سوال جس قدر اپنی اصل کیفیت رکھتا ہے وہ سب درست اور صحیح ہے اور جبر یلی نور کا چھیالیسواں حصہ تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے جس سے کوئی فاسق اور فاجر اور پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں۔ بلکہ میں (۸۵) یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے۔ اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ باده بسر و آشنا بر کا مصداق ہوتی ہے کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے مگر یا درکھنا چاہیے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ جبریلی نور آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈ کوارٹر ہے تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد ان کی اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر دنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو کم سے کم ایک ذرہ سی محبت وطن اصلی اور محبوب اصلی کی ادنیٰ سے ادنی سرشت میں بھی ہے۔ اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ ان کے مجا نین پر بھی کسی قدر جبریل کا اثر ہوتا اور فی الواقعہ ہے بھی کیونکہ مجا نین بھی جن کو عوام الناس مجذوب کہتے ہیں اپنے بعض حالات میں بوجہ اپنے ایک طور کے انقطاع کے جبریلی نور (۸۶) کے نیچے جا پڑتے ہیں تو کچھ کچھ ان کی باطنی آنکھوں پر اس نور کی روشنی پڑتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کے تصرفات خفیہ کو کچھ کچھ دیکھنے لگتی ہے مگر ایسی خوابوں یا ایسے مکاشفات