توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 748

توضیح مرام — Page 94

روحانی خزائن جلد۳ ۹۴ اول یہ کہ جب رحم میں ایسے شخص کے وجود کے لئے نطفہ پڑتا ہے جس کی فطرت کو اللہ جلشانہ اپنی رحمانیت کے تقاضا سے جس میں انسان کے عمل کو کچھ دخل نہیں ملہما نہ فطرت بنانا چاہتا ہے تو اس پر اسی نطفہ ہونے کی حالت میں جبریلی نور کا سایہ ڈال دیتا ہے تب ایسے شخص کی (۸۵) فطرت منجانب اللہ الہامی خاصیت پیدا کر لیتی ہے اور الہامی حواس اس کو مل جاتے ہیں۔ پھر دوسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب بندہ کی محبت خدائے تعالیٰ کی محبت کے زیر سایہ آپڑتی ہے تو خدائے تعالیٰ کی مربیانہ حرکت کی وجہ سے جبر یلی نور میں بھی ایک حرکت پیدا ہوکر محبت صادق کے دل پر وہ نور جا پڑتا ہے یعنی اس نور کا عکس محبت صادق کے دل پر پڑ کر ایک عکسی تصویر جبریل کی اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔ جو ایک روشنی یا ہوا یا گرمی کا کام دیتی ہے اور بطور ملکہ الہامیہ کے ملہم کے اندر رہتی ہے۔ ایک سرا اس کا جبریل کے نور میں غرق ہوتا ہے اور دوسرا الہم کے دل کے اندر داخل ہو جاتا ہے جس کو دوسرے لفظوں میں روح القدس یا اس کی تصویر کہہ سکتے ہیں ۔ تیسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب خدائے تعالی کی طرف سے کسی کلام کا ظہور ہو تو ہوا کی طرح موج میں آکر اس کلام کو دل کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے یا روشنی کے پیرایہ میں افروختہ ہو کر اس کو نظر کے سامنے کر دیتا ہے یا حرارت محرکہ کے پیرا یہ میں تیزی پیدا کر کے زبان کو الہامی الفاظ کی طرف چلاتا ہے۔ (۸۳) اس جگہ میں ان لوگوں کا وہم بھی دور کرنا چاہتا ہوں جو ان شکوک اور شبہات میں مبتلا ہیں جو اولیاء اور انبیاء کے الہامات اور مکاشفات کو دوسرے لوگوں کی نسبت کیا خصوصیت ہو سکتی ہے ۔ کیونکہ اگر نبیوں اور ولیوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں بلکہ بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے