توضیح مرام — Page 92
روحانی خزائن جلد ۳ ۹۲ لانے کے لئے ایک عضو کی طرح بن کر خدمت بجالا وے جیسا کہ جسمانی ارادوں کے پورا کرنے کے لئے بجا لا رہے ہیں سو وہ وہی عضو ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جبریل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بہ تبعیت حرکت اس وجود اعظم کے سچ سچ ایک عضو کی طرح بلا توقف حرکت میں آجاتا ہے یعنی جب خدائے تعالیٰ محبت کرنے والے دل کی طرف محبت کے ساتھ رجوع کرتا ہے تو حسب قاعدہ مذکورہ بالا جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے جبریل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدائے تعالیٰ سے نسبت رکھتا ہے اُس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلا اختیار و بلا ارادہ اسی طور سے جنبش میں آجاتا ہے کہ جیسا اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے۔ پس جب جبریلی نور خدائے تعالیٰ کی کشش اور تحریک اور نفخہ نورانیہ سے جنبش میں آجاتا ہے تو معاً اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہیے محبت ، صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے اور اس کی محبت صادقہ کا ایک عرض لازم ٹھہر جاتی ہے تب یہ قوت خدائے تعالیٰ کی آواز سننے کے لئے کان کا فائدہ بخشتی ہے اور اس کے عجائبات کے دیکھنے کے لئے آنکھوں کی قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کے الہامات زبان پر جاری ہونے کے لئے ایک ایسی محرک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پہیہ کو زور کے ساتھ الہامی خط پر چلاتی ہے اور جب تک یہ قوت پیدا نہ ہو اس وقت تک انسان کا دل اندھے کی طرح ہوتا ہے اور زبان اس ریل کی گاڑی کی طرح ہوتی ہے جو چلنے والے انجن سے الگ پڑی ہو لیکن یادر ہے کہ یہ قوت جو روح القدس سے موسوم ہے ہر ایک دل میں یکساں اور برابر پیدا نہیں ہوتی بلکہ جیسے انسان کی محبت کامل یا ناقص طور پر ہوتی ہے اسی اندازہ کے موافق یہ جبریلی نو ر اس پر اثر ڈالتا ہے ۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ روح القدس کی قوت جو دونوں محبتوں کے ملنے سے