توضیح مرام — Page 82
روحانی خزائن جلد ۳ ۸۲ اور روشنی سے کہیں بڑھ کر ہیں سو جب کہ سورج موجود بالذات ہے تو جو خواص میں اس کا ہم مثل اور ہم پلہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یعنی نفس انسان وہ کیوں کر موجود بالذات نہ ہو گا۔ اسی طرح خدائے تعالی کا یہ کہنا کہ قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کی پیروی کرے۔ اس کے مرادی معنے یہ ہیں کہ چاند اپنی اس خاصیت کے ساتھ کہ وہ سورج سے بطور استفادہ نور حاصل کرتا ہے نفس انسان کے موجود بالذات اور قائم بالذات ہونے پر شاہد حال ہے کیونکہ جس طرح چاند سورج سے اکتساب نور کرتا ہے اسی طرح نفس انسان کا جو مستعد اور طالب حق ہے ایک دوسرے انسان کامل کی پیروی کر کے اس کے نور میں سے لے لیتا ہے اور اس کے باطنی فیض سے فیضیاب ہو جاتا ہے بلکہ چاند سے بڑھ کر استفادہ نور کرتا ہے کیونکہ چاند تو نور کو حاصل کر کے پھر چھوڑ بھی دیتا ہے مگر یہ بھی نہیں چھوڑتا۔ پس جبکہ استفادہ نور میں یہ چاند کا شریک غالب ہے اور دوسری تمام صفات اور خواص چاند کے اپنے اندر رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ چاند کو تو موجود بالذات اور قائم بالذات مانا جائے مگر نفس انسان کے مستقل طور پر موجود ہونے سے بکلی انکار کر دیا جائے ۔ غرض اسی طرح خدائے تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو جن کا ذکر نفس انسان کی پہلے قسم کھا کر کیا گیا ہے اپنے خواص کے رو سے شواہد اور ناطق گواہ قرار دے کر اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نفس انسان واقعی طور پر موجود ہے اور اسی طرح ہر یک جگہ جو قرآن شریف میں بعض بعض چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں ان قسموں سے ہر جگہ یہی مدعا اور مقصد ہے کہ تا امر بدیہ کو اسرار مخفیہ کے لئے جو ان کے ہم رنگ ہیں بطور شواہد کے پیش کیا جائے لیکن اس جگہ یہ سوال ہوگا کہ جو نفس انسان کے موجود بالذات ہونے کے لئے قسموں کے پیرایہ میں شواہد پیش کئے گئے ہیں اُن شواہد کے خواص بدیہی طور پر نفس انسان میں کہاں پائے جاتے ہیں اور اس کا ثبوت کیا ہے کہ پائے جاتے ہیں۔ اس وہم کے رفع کرنے کے لئے اللہ جل شانہ اسکے بعد فرماتا ہے فَأَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوِبِهَا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا - - یعنی خدائے تعالیٰ نے نفس انسان کو پیدا کر کے ظلمت اور نورانیت اور ویرانی اور سرسبزی کی الشمس : ۹ تا ۱۱