توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 748

توضیح مرام — Page 72

روحانی خزائن جلد۳ ۷۲ توضیح مرام خواص ہیں جو باذن حکیم مطلق کائنات الارض کے باطن پر اپنا اثر ڈالتے ہیں اور یہی نفوس (۲) نورانیه کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہو جاتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں اور یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تقریر از قبیل خطا بیات نہیں بلکہ یہ وہ صداقت ہے جو طالب حق اور حکمت کو ضرور ماننی پڑے گی کیونکہ جب ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ضرور کا ئنات الارض کی تربیت اجرام سماویہ کی طرف سے ہو رہی ہے اور جہاں تک ہم بطور استقراء اجسام ارضیہ پر نظر ڈالتے ہیں اس تربیت کے آثار ہر یک جسم پر خواہ وہ نباتات میں سے ہے خواہ جمادات میں سے خواہ حیوانات میں سے ہے بدیہی طور پر ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ پس اس صریح تجربہ کے ذریعہ سے ہم اس بات کے ماننے کے لئے بھی مجبور ہیں کہ روحانی کمالات اور دل اور دماغ کی روشنی کا سلسلہ بھی جہاں تک ترقی کرتا ہے بلاشبہ ان نفوس نورانیہ کا اُس میں بھی دخل ہے۔ اسی دخل کی رو سے شریعت غرانے استعارہ کے طور پر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولوں میں ملائک کا واسطہ ہونا ایک ضروری امر ظاہر فرمایا ہے جس پر ایمان لانا ضروریات ۴۲) دین میں سے گردانا گیا ہے ۔ جن لوگوں نے اپنی نہایت مکروہ نادانی سے اس الہی فلسفہ کو نہیں سمجھا جیسے آریہ مذہب والے یا برہمو مذ ہب والے انہوں نے جلدی سے بباعث اپنے بے وجہ بخل اور بغض کے جو ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے تعلیم فرقانی پر یہ اعتراض جڑ دیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسولوں میں ملائک کا واسطہ ضروری ٹھہراتا ہے اور اس بات کو نہ سمجھا اور نہ خیال کیا کہ خدائے تعالیٰ کا عام قانون تربیت جو زمین پر پایا جاتا ہے اسی قاعدہ پر مبنی ہے۔ ہندوؤں کے رشی جن پر بقول ہندوؤں کے چاروں وید نازل ہوئے کیا وہ اپنے جسمانی قوی کے ٹھیک ٹھیک طور پر قائم رہنے میں تاثیرات اجرام سماویہ کے محتاج نہیں تھے کیا وہ بغیر آفتاب کی روشنی کے صرف آنکھوں کی روشنی سے دیکھنے کا کام لے سکتے تھے یا بغیر ہوا کے ذریعہ کے کسی آواز کو سن سکتے تھے تو اس کا جواب بدیہی طور پر یہی ہو گا کہ ہرگز نہیں بلکہ وہ بھی اجرام سماویہ کی تربیت اور تکمیل کے بہت محتاج تھے ۔ ہندوؤں کے