توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 748

توضیح مرام — Page 68

روحانی خزائن جلد۳ ۶۸ یا نہایت سید ھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں در حقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور یہ حکمت کا ملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہر یک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں ظاہری خدمات بھی بجالاتے ہیں اور باطنی بھی ۔ جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ۳۴ ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہمار کی مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔ جو چیز کسی عمدہ جو ہر بننے کی اپنے اندر قابلیت رکھتی ہے وہ اگر چہ خاک کا ایک ٹکڑہ ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو صدف میں داخل ہوتا ہے یا پانی کا وہ قطرہ جو رحم میں پڑتا ہے وہ ان ملائک اللہ کی روحانی تربیت سے لعل اور الماس اور یا قوت اور نیلم وغیرہ یا نہایت درجہ کا آبدار اور وزنی موتی یا اعلیٰ درجہ کے دل اور دماغ کا انسان بن جاتا ہے۔ دسا تیر جس کو مجوسی لوگ الہامی مانتے ہیں جس نے اپنی مدت ظہور کی وہ لمبی تاریخ بتلائی ہے جس کا کروڑواں حصہ بھی دید کی مدت ظہور کی نسبت بیان نہیں کیا گیا یعنی وید کی نسبت تو صرف ایک ارب چھیا نویں کروڑ مدت ظہور محض دوسروں کے وہم اور گمان سے قرار دی گئی ہے مگر دسا تیر تین سنکھ سے کچھ زیادہ اپنی مدت ظہور آپ بیان کرتا ہے بلکہ یہ تو ہم نے ڈرتے ڈرتے لکھا ہے وہاں تو سنکھوں کی حد سے زیادہ تین صفر اور بھی درمیان ہیں۔ یہ کتاب ان روحانیات کو جو کواکب اور سماؤات سے تعلق رکھتی ہیں نہ صرف ملائک قرار دیتی ہے بلکہ ان کی پرستش کے لئے بھی تاکید کرتی ہے ایسا ہی دید بھی ان روحانیات کو صرف وسائط اور درمیانی خدمت گذار نہیں مانتا بلکہ جابجا اُن کی (۳۳) حاشیه ملائک اس معنی سے ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ ملاک اجرام سماویہ اور ملاک اجسام الارض ہیں یعنی ان کے قیام اور بقا کے لئے روح کی طرح ہیں اور نیز اس معنے سے بھی ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ رسولوں کا کام دیتے ہیں۔ م منه