توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 748

توضیح مرام — Page 66

روحانی خزائن جلد۳ ۶۶ میں بیان کئے گئے ہیں یہ نہیں کہ حقیقی ابنیت اس جگہ مراد ہے یا حقیقی الوہیت مراد لی گئی ہے۔ اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی بے موقعہ نہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے روح القدس اور روح الامین وغیرہ کی تعبیر کی ہے یہ در حقیقت ان عقائد سے جو اہل اسلام ملائک کی نسبت رکھتے ہیں منافی نہیں (۳۰) ہے کیوں کہ متقین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور یہ خیال ہداہت باطل بھی ہے۔ تیرے تیر تیزی کرتے ہیں۔ لوگ تیرے سامنے گڑ جاتے ہیں ۔ اے خدا تیرا تخت ابد الآباد (۳۰) ہے ۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے ۔ تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی ہے اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا ۳۲ ہے ( دیکھوز بور۴۵) اب جاننا چاہیے کہ زبور کا یہ فقرہ کہ اے خدا تیرا تخت ابد الآباد ہے ۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے یہ محض بطور استعارہ ہے۔ جس سے غرض یہ ہے کہ جو روحانی طور پر شان محمدی ہے اُس کو ظاہر کر دیا جائے ۔ پھر یسعیاہ نبی کی کتاب میں بھی ایسا ہی لکھا ہے چنانچہ اس کی عبارت یہ ہے۔ دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالوں گا۔ میرا برگزیدہ جس سے میراجی راضی ہے میں نے اپنی روح اُس پر رکھی ۔ وہ قوموں پر راستی ظاہر کرے گا وہ نہ چلائے گا اور اپنی صدا بلند نہ کرے گا اور اپنی آواز بازاروں میں نہ سنائے گا۔ وہ مسلے ہوئے سینٹھے کو نہ توڑے گا اور سن کو جس سے دھواں اٹھتا ہے نہ بجھائے گا جب تک کہ راستی کو امن کے ساتھ ظاہر نہ کرے وہ نہ گھٹے گا نہ تھکے گا جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کرے اور جزیرے اس کی شریعت کے منتظر ہوویں ۔۔۔۔۔۔ خداوند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا۔ وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت کو اُسکائے گا۔ الخ اب جاننا چاہیے کہ یہ فقرہ کہ خداوند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا یہ بھی بطور استعارہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پُر ہیبت ظہور کا اظہار کر رہا ہے۔ دیکھو یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۴۲ اور ایسا ہی اور کئی نبیوں نے بھی اسی استعارہ کو اپنی پیشگوئیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں حمد یسعیاہ باب ۴۲ آیت ۱ تا ۲۳- (ناشر)