توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 748

توضیح مرام — Page 65

روحانی خزائن جلد۳ ایک مثال کو پیش کر کے فرمایا ہے کہ انگورستان کا پھل لینے کے لئے اول باغ کے مالک نے ( جو خدائے تعالیٰ ہے ) اپنے نوکروں کو بھیجا یعنی ابتدائی کے قرب والوں کو جس سے مراد وہ تمام صلحا ہیں جو حضرت مسیح کے زمانہ میں اور اُسی صدی میں مگر کسی قدر ان سے پہلے آئے پھر جب باغبانوں نے باغ کا پھل دینے سے انکار کیا تو باغ کے مالک نے تاکید کے طور پر اپنے بیٹے کو ان کی طرف روانہ کیا تا اُس کو بیٹا سمجھ کر باغ کا پھل اس کے حوالہ کریں۔ بیٹے سے مراد اس جگہ مسیح ہے جن کو دوسرا درجہ قرب اور محبت کا حاصل ہے مگر باغبانوں نے اُس بیٹے کو بھی ۲۸ باغ کا پھل نہ دیا بلکہ اپنے زعم میں اسے قتل کر دیا بعد اس کے حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ اب باغ کا مالک خود آئے گا یعنی خدائے تعالیٰ خود ظہور فرمائے گا تا با غبانوں کو قتل کر کے باغ کو ایسے لوگوں کو دیدے کہ اپنے وقت پر پھل دے دیا کریں اس جگہ خدائے تعالیٰ کے آنے سے مراد حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا ہے جو قرب اور محبت کا تیسرا درجہ اپنے لئے حاصل رکھتے ہیں اور یہ سب روحانی مراتب ہیں کہ جو استعارہ کے طور پر مناسب حال الفاظ (۲۹) حاشیه ہمارے سید و مولی جناب مقدس خاتم الانبیاء کی نسبت صرف حضرت مسیح نے ہی بیان نہیں کیا کہ آنجناب کا دنیا میں تشریف لانا در حقیقت خدائے تعالی کا ظہور فرمانا ہے بلکہ اس طرز کا کلام دوسرے نبیوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اپنی اپنی پیشگوئیوں میں بیان کیا ہے اور استعارہ کے طور پر آنجناب کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے بلکہ بوجہ خدائی کے مظہر اتم ہونے کے آنجناب کو خدا کر کے پکارا ہے ۔ چنانچہ حضرت داؤد کے (۲۹)) زبور میں لکھا ہے تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے ۔ تیرے لبوں میں نعمت بنائی گئی ۔ اس لئے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا ( یعنی تو خاتم الانبیاء پھہبر ا ) اے پہلوان تو جاہ و جلال سے اپنی تلوار حمائل کر کے اپنی ران پر لٹکا امانت اور حلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہو کر تیرا د ہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا ۔ بادشاہ کے دشمنوں کے دلوں میں ابتدائی درجہ پڑھا جائے ۔(شمس)