توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 748

توضیح مرام — Page 64

روحانی خزائن جلد۳ ۶۴ کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیں کیونکہ یہ ہر یک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القوی بھی ہے کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قومی تروجی متصور نہیں اور اس کا نام ذو الافق الاعلیٰ بھی ہے کیونکہ یہ وحی الہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اور اس کو رَأَى مَارَی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان اور و ہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے۔ اور دائرہ استعدادت بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے اور وہ در حقیقت پیدائش الہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے جو ارتفاع کے تمام مراتب کا انتہا ہے۔ حکمت الہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنیٰ خلقت سے اور اسفل سے اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم جس کے معنے یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی کمالات تامہ کا مظہر سوجیسا کہ فطرت کے رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ و ارفع مرتبہ وحی کا اس کو عطا ہوا اور اعلیٰ وارفع مقام محبت کا ملا یہ وہ مقام عالی ہے کہ میں اور (۲۷) مسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے ۔ اس کا نام مقام جمع اور مقام وحدت تامہ ہے۔ پہلے نبیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی ہے اسی پتہ ونشان پر خبر دی ہے اور اسی مقام کی طرف اشارہ کیا ہے اور جیسا مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں ۔ ایسا ہی یہ وہ مقام عالی شان مقام ہے کہ گذشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہذا کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دے دیا اور اس کا آنا خدائے تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے ۔ جیسا کہ حضرت مسیح نے بھی