توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 748

توضیح مرام — Page 63

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۳ توضیح مرام منت ایزد را که من بر رغم اهل روزگار صد بلا را می خرم از ذوق آں عین النعیم از عنایات خدا و از د خدا و از فضل آن دادار پاک دشمن فرعونیانم بهر عشق آں کلیم آں مقام و رتبت خاصش کہ برمن شد عیاں گفتی گردید سے طبعے دریں راہے سلیم در ره عشق محمدؐ این سر و جانم رود ایں تمنا ایں دعا این در دلم عزم صمیم اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ عالیہ کی شناخت کے لئے اس قد ر لکھنا ضروری ہے ﴿۲۴﴾ که مراتب قرب و محبت باعتبار اپنے روحانی درجات کے تین قسم پر منقسم ہیں ۔ سب سے ادنی درجہ جو درحقیقت وہ بھی بڑا ہے یہ ہے کہ یہ ہے کہ آتش محبت الہی لوح قلب انسان کو گرم تو کرے اور ممکن ہے کہ ایسا گرم کرے کہ بعض آگ کے کام اُس محرور سے ہو سکیں لیکن یہ کسر باقی رہ جائے کہ اس متاثر میں آگ کی چمک پیدا نہ ہو اس درجہ کی محبت پر جب خدائے تعالیٰ کی محبت کا شعلہ واقع ہو تو اس شعلہ سے جس قدر روح میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس کو سکینت واطمینان اور کبھی فرشتہ و ملک کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ دوسرا درجہ محبت کا وہ ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں جس میں دونوں محبتوں کے ملنے سے آتش محبت الہی لوح قلب انسان کو اس قدر گرم کرتی ہے کہ اُس میں آگ کی صورت پر ایک چمک پیدا ہو جاتی ہے لیکن اُس چمک میں کسی قسم کا اشتعال یا بھڑک نہیں ہوتی ۔ فقط ایک چمک ہوتی ہے جس کو روح القدس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلہ محبت الہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اُس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ و ریشہ پر استیلا پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے اور اس حالت میں آتشِ محبت الہی لوح قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے بلکہ معاً اس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اٹھتا ہے اور اس کی لوئیں اور شعلے اردگرد کو روز روشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفات کاملہ ۲۵