توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 748

توضیح مرام — Page 58

روحانی خزائن جلد۳ ۵۸ عمدہ اور بلیغ مجازی کلمات کو حقیقت پر اتارنا گویا ایک خوبصورت معشوق کا ایک دیو کی شکل میں خاکہ کھینچنا ہے بلاغت کا تمام مدار استعارات لطیفہ پر ہوتا ہے اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ کے کلام نے بھی جو ابلغ الکلم ہے جس قدر استعاروں کو استعمال کیا ہے اور کسی کے کلام میں یہ طرز لطیف نہیں ہے۔ اب ہر جگہ اور ہرمحل میں ان پاکیزہ استعاروں کو حقیقت پر حمل کرتے جانا گویا اس کلام معجز نظام کو خاک میں ملا دینا ہے۔ پس اس طریق سے نہ صرف خدائے تعالیٰ کے پر بلاغت کلام کا اصلی منشا درہم برہم ہوتا ہے بلکہ ساتھ ہی اس کلام کی اعلیٰ درجہ کی بلاغت کو برباد کر دیا جاتا ہے خوبصورت اور دلچسپ طریقے تغیر کے وہ ہوتے ہیں جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی اور بلند ارادوں کا بھی خیال رہے نہ یہ کہ نہایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنے جو ہجو ملیح کے حکم میں ہوں اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور ۱۵) خدائے تعالیٰ کے پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے صرف دہقانی لفظوں تک محدود خیال کر لیا جائے ۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ان نہایت دقیق اسرار کے مقابلہ پر جو خدائے تعالیٰ کے کلام میں ہونے چاہئیں اور بکثرت ہیں کیوں بدشکل اور موٹے اور کر یہہ معنے پسند کئے جاتے ہیں؟ اور کیوں ان لطیف معنوں کی وقعت نہیں جو خدائے تعالیٰ کی حکیمانہ شان کے موافق اور اس کے عالی مرتبہ کلام کے مناسب حال ہیں؟ اور ہمارے علماء کے دماغ اس بے وجہ سرکشی سے کیوں پر ہیں کہ وہ الہی فلسفہ کے نزدیک آنا نہیں چاہتے ! جن لوگوں نے ان تحقیقوں میں اپنا خون اور پسینہ ایک کر دیا ہے ان کو بے شک ہمارے اس بیان سے نہ انکار بلکہ مزہ آئے گا۔ اور ایک تازہ صداقت ان کو ملے گی جس کو وہ بڑی مد وشد کے ساتھ قوم میں بیان کریں گے اور پبلک کو ایک روحانی فائدہ پہنچائیں گے لیکن جنہوں نے صرف سرسری نگاہ تک اپنی فکر اور عقل کو ختم کر رکھا ہے وہ بجز اس کے کہ ناحق کے اعتراضات کی میزان بڑھاویں اور بے جا رست خیز قائم کریں اور کچھ اسلام کو اپنے وجود سے فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔ اب ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ہادی اور سید مولی جناب ختم المرسلین نے