تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 280

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۸۰ تحفہ قیصریہ کے ساتھ اسلامی واقعات پہنچائے گئے ہیں ایک سچے نقشہ پر اطلاع پا جائے گا بلکہ انگلستان کے لوگ ہر ایک مذہب کی کچی فلاسفی سے مطلع ہو جائیں گے۔ یہ بات بھروسہ کرنے کے لائق نہیں ہے کہ پادریوں کے ذریعہ سے ہندوستان کے مذاہب کی حقیقت انگلستان کو پہنچتی رہتی ہے کیونکہ پادریوں کی کتابیں جن میں وہ دوسرے مذاہب کا ذکر کرتے ہیں اس کثیف نالی کی طرح ہیں جس کا پانی بہت سی میل کچیل اور خس و خاشاک ساتھ رکھتا ہے پادری صاحبان سچائی کی حقیقت کو کھولنا نہیں چاہتے بلکہ چھپانا چاہتے ہیں اور ان کی تحریروں میں تعصب کی ایسی رنگ آمیزی ہے جس کی وجہ سے انگلستان تک مذاہب کی اصل حقیقت پہنچنا مشکل بلکہ محال ہے۔ اگر ان میں نیک نیتی ہوتی تو وہ قرآن پر ایسے اعتراض نہ کرتے جو موسیٰ کی توریت پر بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ان کو خدا کا خوف ہوتا تو وہ ان کتابوں کو اعتراض کے وقت تمسک بھا نہ ٹھہراتے جو مسلمانوں کے نزدیک غیر مسلم اور یقینی سچائیوں سے خالی ہیں۔ اس لئے انصاف یہی حکم دیتا ہے کہ اگر سارا یورپ فرشتہ سیرت بھی ہو مگر پادری اس سے متقی ہیں۔ یورپ کے عیسائی جو اسلام کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اس کا یہی سبب ہے کہ قدیم سے یہی پادری صاحبان خلاف واقعہ قصوں کو پیش کر کے تحقیر کا سبق ان کو دیتے چلے آئے ہیں۔ ہاں میں قبول کرتا ہوں کہ بعض نادان مسلمانوں کا چال چلن اچھا نہیں اور نادانی کی عادات ان میں موجود ہیں جیسا کہ بعض وحشی مسلمان ظالمانہ خونریزیوں کا نام جہادر کھتے ہیں اور انہیں خبر نہیں کہ رعیت کا عادل بادشاہ کے ساتھ مقابلہ کرنا اس کا نام بغاوت ہے نہ کہ جہاد ۔ اور عہد توڑنا اور نیکی کی جگہ بدی کرنا اور بے گنا ہوں کو مارنا اس حرکت کا مرتکب ظالم کہلاتا ہے نہ غازی۔ سو یہ خیالات پادریوں کی بدنہمی سے پیدا ہوئے ہیں خدا کی کتاب میں اس کا نشان نہیں۔ خدا کا کلام ظالمانہ تلوار اٹھانے والوں کے لئے تلوار کی سزا بیان فرماتا ہے نہ کہ امن قائم کرنے والوں، رعیت پرور اور ہر ایک قوم کو آزادی کے حقوق دینے والوں