تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 276

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۷۶ تحفہ قیصریہ لعنت کے مفہوم کی تفتیش کریں اور تمام لغات کے فاضلوں کی اس امر کیلئے گواہیاں لیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ملعون صرف اس حالت میں کسی کو کہا جائے گا جب کہ اس کا دل خدا کی معرفت اور محبت اور قرب سے دور پڑ گیا ہو اور جبکہ بجائے محبت کے اس کے دل میں خدا کی عداوت پیدا ہو گئی ہو۔ اسی وجہ سے لغت عرب میں لعین شیطان کا نام ہے۔ پس کس طرح یہ نا پاک نام جو شیطان کے حصہ میں آ گیا ایک پاک دل کی طرف منسوب کیا جائے۔ میرے مکاشفہ میں مسیح نے اپنی بریت اس سے ظاہر کی ہے اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ مسیح کی شان اس سے برتر ہے۔ لعنت کا مفہوم ہمیشہ دل سے تعلق رکھتا ہے اور یہ نہایت صاف بات ہے کہ ہم خدا کے مقرب اور پیارے کو کسی تاویل سے ملعون اور لعنتی کے نام سے موسوم نہیں کر سکتے ۔ یہ یسوع مسیح کا پیغام ہے جو میں پہنچاتا ہوں ۔ اس میں میرے سچے ہونے کی یہی نشانی ہے جو مجھ سے وہ نشان ظاہر ہوتے ہیں جو انسانی طاقتوں سے برتر ہیں۔ اگر حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان توجہ کریں تو میرا خدا قادر ہے کہ ان کی تسلی کے لئے بھی کوئی نشان دکھاوے۔ جو بشارت اور خوشی کا نشان ہو بشرطیکہ نشان دیکھنے کے بعد میرے پیغام کو قبول کر لیں اور میری سفارت جو یسوع مسیح کی طرف سے ہے اس کے موافق ملک میں عملدرآمد کرایا جائے مگر نشان خدا کے ارادہ کے موافق ہوگا نہ انسان کے ارادہ کے موافق ہاں فوق العادت ہوگا اور عظمت الہی اپنے اندر رکھتا ہوگا ۔ حضور ملکہ معظمہ اپنی روشن عقل کے ساتھ سوچیں کہ کسی کو خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعوی کے لئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ نشان ظاہر ہو جائے اور نہ صرف یہی بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت اور صحت سے بسر ہو لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں ۔ یہ سب الحاج اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آ جائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔ منہ