تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 274

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۷۴ تحفہ قیصریہ (۲۲) کہ میں ان آسمانی نشانوں کی حضرت عالی قیصرہ ہند میں اطلاع دوں ۔ میں حضرت یسوع مسیح کی طرف سے ایک بچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ جو کچھ آجکل عیسائیت کے بارے میں سکھایا جاتا ہے یہ حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح دنیا میں پھر آتے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہ کر سکتے ۔ ایک اور بڑی بھاری مصیبت قابل ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خدا کے دائمی پیارے اور دائمی محبوب اور دائی مقبول کی نسبت جس کا نام یسوع ہے یہودیوں نے تو اپنی شرارت اور بے ایمانی سے لعنت کے برے سے برے مفہوم کو جائز رکھا لیکن عیسائیوں نے بھی اس بہتان میں کسی قدر شراکت اختیار کی کیونکہ یہ گمان کیا گیا ہے کہ گویا یسوع مسیح کا دل تین دن تک لعنت کے مفہوم کا مصداق بھی رہا ہے۔ اس بات کے خیال سے ہمارا بدن کا نپتا ہے اور وجود کے ذرہ ذرہ پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔ کیا مسیح کا پاک دل اور خدا کی لعنت !!! گو ایک سیکنڈ کے لئے ہی ہو ۔ افسوس! ہزار افسوس کہ یسوع مسیح جیسے خدا کے پیارے کی نسبت یہ اعتقا در کھیں کہ کسی وقت اس کا دل لعنت کے مفہوم کا مصداق بھی ہو گیا تھا۔ اس وقت ہم یہ عاجزانہ التماس کسی مذہبی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک کامل انسان کی حفظ عزت کے لئے پیش کرتے ہیں اور یسوع کی طرف سے رسول کی طرح ہو کر جس طرح کشفی عالم میں اس کی زبان سے سنا حضور قیصرہ ہند میں پہنچا دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ جناب ممدوحہ اس غلطی کی اصلاح فرمائیں ۔ یہ اس زمانہ کی ایک فاحش غلطی ہے کہ جبکہ لوگوں نے لعنت کے مفہوم پر غور نہیں کی تھی لیکن اب ادب تقاضا کرتا ہے کہ نہایت جلدی اس غلطی کی اصلاح کر دی جائے اور خدا کے اس اعلیٰ درجہ کے پیارے اور برگزیدہ کی عزت کو بچایا جائے۔ کیونکہ زبان عرب اور عبرانی میں لعنت کا لفظ خدا سے دور اور برگشتہ ہونے کیلئے آتا ہے۔ اور کسی شخص کو اس وقت لعین کہا جاتا ہے کہ جب