تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 272

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۷۲ تحفہ قیصریہ ۲۰ دے کر آسمان کی بادشاہت عطا کی جہاں نہ کوئی دشمن چڑھائی کر سکے اور نہ آئے دن اس میں جنگوں اور خونریزیوں کے خطرات ہوں اور نہ حاسدوں اور بخیلوں کو منصو بہ بازی کا موقعہ ملے ۔ اور چونکہ اس نے مجھے یسوع مسیح کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور تو ار طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی اس لئے ضرور تھا کہ گم گشتہ ریاست میں بھی مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت ہوتی سو ریاست کا کاروبار تباہ ہونے سے یہ مشابہت بھی متحقق ہو گئی جس کو خدا نے پورا کیا کیوں کہ یسوع کے ہاتھ میں داؤد بادشاہ نبی اللہ کے ممالک مقبوضہ میں سے جس کی اولاد میں سے یسوع تھا ایک گاؤں بھی باقی نہیں رہا تھا صرف نام کی شہزادگی باقی رہ گئی تھی۔ ہر چند میں اس قدر تو مبالغہ نہیں کر سکتا کہ مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں لیکن میں شکر کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے ان تمام صعوبتوں اور شدتوں کے بعد جن کا اس جگہ ذکر کرنا بے محل ہے مجھے ایسے طور سے اپنی مہربانی کی گود میں لے لیا جیسا کہ اس نے اس مبارک انسان کو لیا تھا جس کا نام ابراہیم تھا۔ اس نے میرے دل کو اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ باتیں میرے پر کھولیں جو کسی پر نہیں کھل سکتیں جب تک اس پاک گروہ میں داخل نہ کیا جائے جن کو دنیا نہیں پہچانتی کیوں کہ وہ دنیا سے بہت دور اور دنیا ان سے دور ہے۔ اس نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ اکیلا اور غیر متغیر اور قادر اور غیر محدود خدا ہے جس کی مانند اور کوئی نہیں اور اس نے مجھے اپنے مکالمہ کا شرف بخشا۔ اور اس نے بلا واسطہ اپنے راہ کی مجھے تعلیم دی ہے اور مرور زمانہ سے جو قوموں کے عقیدہ میں غلطیاں واقع ہوئیں ان سب پر مجھے مطلع فرمایا ہے۔ اس نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ در حقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے۔ اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے