تحفۂ قیصریہ — Page 271
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۷۱ تحفہ قیصریہ کو مدد دی تھی ۔ غرض ہماری ریاست کے ایام دن بدن زوال پذیر ہوتے گئے یہاں تک کہ 19 ہے آخری نوبت ہماری یہ تھی کہ ایک کم درجہ کے زمیندار کی طرح ہمارے خاندان کی حیثیت ہوگئی۔ بظاہر یہ بات بہت غم دلانے والی ہے کہ ہم اول کیا تھے اور پھر کیا ہو گئے لیکن جب میں سوچتا ہوں تو یہ حالت نہایت قابل شکر معلوم ہوتی ہے کہ خدا نے ہمیں بہت سے ان ابتلاؤں سے بچالیا کہ جو دولت مندی کے لازمی نتائج ہیں جن کو ہم اس وقت اس ملک میں اپنی آن آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں مگر میں اس ملک کے امیروں اور رئیسوں کے نظائر پیش کرنا نہیں چاہتا جو میری رائے کی تائید کرتے ہیں اور میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس ملک کے ست اور کاہل اور آرام پسند اور دین و دنیا سے غافل اور عیاشی میں غرق امیروں اور دولتمندوں کے نمونے اپنی تائید دعوی میں پیش کروں کیوں کہ میں نہیں چاہتا کہ کسی کے دل کو دکھ دوں ۔ اس جگہ میرا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اگر ہمارے بزرگوں کی ریاست میں فتور نہ آتا تو شاید ہم بھی ایسی ہی ہزاروں طرح کی غفلتوں اور تاریکیوں اور نفسانی جذبات میں غرق ہوتے ۔ سو ہمارے لئے جناب باری تعالیٰ جل جلالہ نے دولت عالیہ برطانیہ کو نہایت ہی مبارک کیا کہ ہم اس بابرکت سلطنت میں اس ناچیز دنیا کی صد بازنجیروں اور اس کے فانی تعلقات سے فارغ ہو کر بیٹھ گئے ۔ اور خدا نے ہمیں ان تمام امتحانوں اور آزمائشوں سے بچالیا کہ جو دولت اور حکومت اور ریاست اور امارت کی حالت میں پیش آتے اور روحانی حالتوں کا ستیا ناس کرتے ہیں یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ان گردشوں اور طرح طرح کے حوادث میں جو حکومت کے بعد تحکم کے زمانہ سے لازم حال پڑی ہوئی ہیں برباد کرنا نہیں چاہا بلکہ زمین کی ناچیز حکومتوں اور ریاستوں سے ہمیں نجات