تحفۂ قیصریہ — Page 263
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶۳ تحفہ قیصریہ انسانیہ کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ایک طبعی امر ہے اور تو بہ اور دعا کرنا عذاب کے 11 وقتوں میں انسان کے لئے فائدہ مند ثابت ہوا ہے یعنی تو بہ اور استغفار سے عذاب ٹل بھی جاتا ہے جیسا کہ یونس نبی کی قوم کا عذاب ٹل گیا ایسا ہی حضرت موسیٰ کی دعا سے کئی دفعہ بنی اسرائیل کا عذاب ٹل گیا ۔ سو خدا تعالیٰ کا ان کفار کو جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں پر بہت سختی کی تھی یہاں تک کہ عورتیں اور بچے بھی قتل کئے تھے ۔ تلوار کے عذاب سے شکنجہ میں گرفتار کرنا اور پھر ان کی تو بہ اور رجوع اور حق پذیری سے نجات دے دینا یہ وہی خدا کی قدیم عادت ہے جس کا مشاہدہ ہر زمانہ میں ہوتا چلا آیا ہے۔ غرض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اسلامی جہاد کی جڑ یہی تھی کہ خدا کا غضب ظلم کرنے والوں پر بھڑ کا تھا لیکن کسی عادل گورنمنٹ کے سایہ معدلت کے نیچے رہ کر جیسا کہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی سلطنت ہے پھر اس کی نسبت بغاوت کا قصد رکھنا اس کا نام جہاد نہیں ہے بلکہ یہ ایک نہایت وحشیانہ اور جہالت سے بھرا ہوا خیال ہے۔ جس گورنمنٹ کے ذریعہ سے آزادی سے زندگی بسر ہو اور پورے طور پر امن حاصل ہو اور فرائض مذہبی کما حقہ ادا کر سکیں اس کی نسبت بد نیتی کو عمل میں لانا ایک مجرمانہ حرکت ہے نہ جہاد۔ اسی لئے ۱۸۵۷ء میں مفسدہ پرداز لوگوں کی حرکت کو خدا نے پسند نہیں کیا اور آخر طرح طرح کے عذابوں میں وہ مبتلا ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنی محسن اور مربی گورنمنٹ کا مقابلہ کیا۔ سو خدا تعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گزاری کی جائے ۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں ۔ چنانچہ میں نے اس مسئلہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کیں اور ان میں