تحفۂ غزنویہ — Page 586
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۸۶ تحفه غزنویه بتلاؤ کہ اس مخالفت کے وقت میں جو حضرت ابوبکر کی رائے اور حضرت عمر کی رائے میں واقع ہوئی تھی جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی رائے کی تائید میں یہی پیش کرتے تھے (۵۳) کہ حضرت عیسی زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں سو ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھائے جائیں گے اور پھر کیوں ممتنع اور محال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم با وجود بہتر اور افضل ہونے کے حضرت مسیح کی طرح آسمان پر نہ اُٹھائے جائیں ۔ اُس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر کی رائے کے رڈ کرنے میں جو آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پڑھی اِس سے اُن کا اگر یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت عیسی بھی جن کا حوالہ دیا جاتا ہے فوت ہو چکے ہیں تو پھر اور کیا مطلب تھا اور کیونکر حضرت عمر کے خیال کا بجز اس کے ازالہ ہو سکتا تھا اور آپ کا یہ کہنا کہ اس پر اجماع نہیں ہوا ۔ یہ ایسا صریح جھوٹ ہے کہ بے اختیار رونا آتا ہے کہ کہاں تک آپ لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ اے عزیز ! بخاری میں تو اس جگہ لھم کا لفظ موجود ہے جس سے ظاہر ہے کہ کل صحابہ اُس وقت موجود تھے اور لشکر اسامہ جو بنین نزار آدمی تھا اس مصیبت عظمی واقعہ خیر الرسل سے رُک گیا تھا اور وہ ایسا کون بے نصیب اور بد بخت تھا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنی اور فی الفور حاضر نہ ہوا ۔ بھلا کسی کا نام تو لو ۔ ماسوا اس کے اگر فرض بھی کر لیں کہ بعض صحابہ غیر حاضر تھے تو آخر مہینہ دو مہینہ چھ مہینہ کے بعد ضرور آئے ہوں گے پس اگر انہوں نے کوئی مخالفت ظاہر کی تھی اور آیت قد خلت کے اور معنے گئے تھے تو آپ اس کو پیش کریں اور اگر پیش نہ کر سکیں تو پس یہی ایمان اور دیانت کے برخلاف ہے کہ ایسے جامع اجماع کے برخلاف آپ عقیدہ رکھتے ہیں حضرت مسیح کی موت پر یہ ایک ایسا زبردست اجماع ہے کہ کوئی بے ایمان ال عمران: ۱۴۵