تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 585 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 585

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۸۵ تحفه غزنویه افضل الانبیاء وفوت ہو جائیں ان کی میت سامنے پڑی ہو اور کسی دوسرے نبی کی نسبت یہ خیال ہو کہ وہ فوت نہیں ہوا۔ در حقیقت یہ خیال اور محبت اور تعظیم رسول کریم ایک جگہ جمع (۵۲) نہیں ہو سکتی ۔ ایمانداری اور تقویٰ سے سوچو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں۔ اس خیال کا رو بجز اس کے کب ممکن تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت مسیح اور تمام گذشتہ نبیوں کی موت ثابت کرتے بھلا اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس آیت قد خلت کے پڑھنے سے یہ ارادہ نہ تھا کہ حضرت مسیح وغیرہ انبیاء گذشتہ کی موت ثابت کریں تو انہوں نے حضرت عمر کے خیال کا رڈ کیا کیا ۔ حضرت عمر کے اس خیال کا تمام دار مدار حضرت مسیح کے زندہ اٹھائے جانے پر تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اپنے اجتہاد سے یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زنده آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر حضرت مسیح زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر ہمارے نبی احق واولی ہیں کہ زندہ آسمان پر چلے جائیں کیونکہ یہ ایک عظیم فضیلت ہے کہ خدا تعالیٰ کسی نبی کو زندہ آسمان پر اپنے پاس بلا لے اور بلحاظ طریقت وحسن ادب یہ بات کفر کے رنگ میں تھی کہ ایسا سمجھا جائے کہ گویا حضرت مسیح تو زندہ آسمان پر چلے گئے ۔ اور وہ نبی جو خاتم الانبیاء اور افضل الانبیاء ہے جس کے وجود باجود کی بہت سی ضرورتیں ہیں وہ عمر طبعی تک بھی نہ پہنچے اگر بے ایمانی اور تعصب مانع نہ ہو تو یہ آیت مذکورہ بالا ایک بڑی نص صریح اس بات پر ہے کہ تمام صحابہ کا اسی پر اتفاق ہو گیا تھا کہ مسیح وغیرہ تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام فوت ہو چکے ہیں اور اگر یہ نہیں تو بھلا ہوش کر کے اور خدا سے ڈر کر