تحفۂ غزنویہ — Page 584
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۸۴ تحفه غزنویه (۵۱) موت سے باہر ہوتے تو وہ ہرگز اس آیت کو بطور استدلال پیش نہ کرتے اور اگر صحابہ کو اس آیت کے ان معنوں میں جو تمام نبی فوت ہو چکے ہیں کچھ تر ود ہوتا تو وہ ضرور عرض کرتے کہ جس حالت میں حضرت عیسی علیہ السلام زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر یہ دلیل نا تمام ہے اور کیا وجہ کہ عیسی کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر نہ گئے ہوں ۔ لیکن اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسی کی موت کا بھی اُسی دن فیصلہ ہوا اور صحابہ نے اس آیت کو سن کر بعد اس کے کبھی دم نہیں مارا کہ حضرت عیسی زندہ ہیں ۔ اور چونکہ صحیح بخاری کے لفظ كُـلّـهـم سے ثابت ہو گیا کہ اُس وقت سب صحابہ موجود تھے اور کسی نے اس آیت کے سننے کے بعد مخالفت نہ کی اس لئے مانا پڑا کہ اُن سب کا تمام گذشتہ انبیاء کی موت پر اجماع ہو گیا اور یہ پہلا اجماع تھا جو صحابہ میں ہوا۔ اور خلافت ابوبکر کے اجماع سے جو بعد اس کے ہوا یہ اجماع بہت بڑھ کر تھا کیونکہ اس میں کسی نے دم نہیں مارا اور خلافت ابوبکر میں ابتدا میں اختلاف ہو گیا تھا۔ ہاں اس جگہ یہ خیال گذرتا ہے کہ اس آیت کے سننے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عیسی کی نسبت یہ مذہب تھا کہ با وجود مر جانے کے وہ بھی دنیا میں واپس آئیں گے کیونکہ انہوں نے ان کا رفع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع ایک ہی طور کا قرار دیا اور جبکہ وہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم تو حضرت عایشہ کے گھر میں ہی اب تک پڑا ہے تو وہ با وجود اقرار مشابہت کے کس طرح اس بات کے قائل ہو سکتے تھے کہ حضرت مسیح کا جسم آسمان پر چلا گیا لیکن آیت کوسن کر یہ خیال بھی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس روز تمام صحابہ اس بات پر ایمان لائے کہ اس سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں اور در حقیقت بڑی بے ادبی تھی اور سخت گناہ تھا کہ نبی خاتم الرسل