تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 583 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 583

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۸۳ تحفہ غزنویه کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں اور نیز اگر یہ استدلال صریح اور قطعية الدلالت نہیں تھا تو وہ صحابہ جو بقول آپ کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے محض ظنی اور شکی ں اور شکی امر پر کیونکر قائل ہو گئے اور کیوں یہ حجت پیش نہ کی کہ یا حضرت یہ آپ کی دلیل نا تمام ہے اور کوئی نص قطعية الدلالت آپ کے ہاتھ میں نہیں ۔ کیا آپ اب تک اس سے بے خبر ہیں کہ قرآن ہی آیت رافعک الی میں حضرت مسیح کا مجسمہ العنصری آسمان پر جانا بیان فرماتا ہے۔ کیا بل رفعه الله الیہ بھی آپ نے نہیں سنا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جانا آپ کے نزدیک کیوں مستبعد ہے بلکہ صحابہ نے جو مذاق قرآن سے واقف تھے آیت کو سن کر اور لفظ خلت کی تشریح فقرہ أفأن مات أو قتل میں پا کر فی الفور اپنے پہلے خیال کو چھوڑ دیا ہاں اُن کے دل آنحضرت کی موت کی وجہ سے سخت غمناک اور چور ہو گئے اور اُن کی جان گھٹ گئی اور حضرت عمر نے فرمایا کہ اس آیت کے سننے کے بعد میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ میرے جسم کو میرے پیرا ٹھا نہیں سکتے اور میں زمین پر گرا جاتا ہوں ۔ سبحان اللہ کیسے سعید اور وقاف عند القرآن تھے کہ جب آیت میں غور کر کے سمجھ آگیا کہ تمام گذشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تب بجز اس کے کہ رونا شروع کر دیا اور غم سے بھر گئے اور کچھ نہ کہا اور تب حضرت حسان بن ثابت نے یہ مرثیہ کہا كنت السواد لناظري فعمی علیک الناظر من شاء بعدك فلیمت فعلیک کنت احاذر یعنی تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس میری آنکھیں تو تیرے مرنے سے اندھی ہو گئیں اب تیرے بعد میں کسی کی زندگی کو کیا کروں ۔ عیسی مرے یا موسیٰ مرے بیشک مرجائیں مجھے تو تیرا ہی غم تھا ۔ یادر ہے کہ اگر حضرت ابوبکر کی نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام