تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 582 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 582

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۸۲ تحفه غزنویه خدا ہی میں یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور باقی تمام نوع انسان و حیوان پہلے اس سے مر جاتے ہیں کہ اُن کی نسبت خلود کا گمان ہو۔ اور پھر حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی جس کا (۵۰) یہ ترجمہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) رسول ہیں اور سب رسول دُنیا سے گذر گئے کیا اگر وہ فوت ہو گئے یا قتل کئے گئے تو تم مرتد ہو جاؤ گے تب لوگوں نے اس آیت کو سن کر اپنے خیالات سے رجوع کر لیا۔ اب سوچو کہ حضرت ابوبکر کا اگر قرآن سے یہ استدلال نہیں تھا مضر نہیں بلکہ اُن کی مؤید ٹھہرتی ہے۔ لیکن اس آیت کا اگلا فقرہ جو بطور تشریح ہے یعنی آفَابِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِل ہے جس پر حضرت ابو بکر کی نظر جاپڑی ظاہر کر رہا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے لینا کہ تمام نبی گذر گئے گو مر کر گذر گئے یا زندہ ہی گذر گئے یہ دجل اور تحریف اور خدا کی منشاء کے برخلاف ایک عظیم افترا ہے۔ اور ایسے افتر اعمد ا کرنے والے جو عدالت کے دن سے نہیں ڈرتے اور خدا کی اپنی تشریح کے برخلاف اُلٹے معنے کرتے ہیں وہ بلاشبہ ابدی لعنت کے نیچے ہیں۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اُس وقت تک اس آیت کا علم نہیں تھا۔ اور دوسرے بعض صحابہ بھی اسی غلط خیال میں مبتلا تھے اور اُس سہو ونسیان میں گرفتار تھے جو مقتضائے بشریت ہے اور اُن کے دل میں تھا کہ بعض نبی اب تک زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔ پھر کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی مانند نہ ہوں ۔ لیکن حضرت ابوبکر نے تمام آیت پڑھ کر اور آفَا بِنْ ماتَ اَوْ قُتِلَ سنا کر دلوں میں بٹھا دیا کہ خلت کے معنے دو قسم میں ہی محصور ہیں (۱) حنف الف سے مرنا یعنی طبعی موت ۔ (۲) مارے جانا۔ جب مخالفوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور تمام صحابہ اس کلمہ پر متفق ہو گئے کہ گذشتہ نبی سب مر گئے ہیں اور فقرہ آفَابِنُ مات أو قتل کا بڑا ہی اثر پڑا اور سب نے اپنے حاشي مخالفانہ خیالات سے رجوع کرلیا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ منہ ا آل عمران : ۱۴۵