تحفۂ غزنویہ — Page 581
روحانی خزائن جلد ۱۵ ΟΛΙ تحفه غزنویه مات فقتلته بسيفى هذا۔ وانما رُفع الى السماء كمارفع عیسی ابن مریم عليه السلام وقال ابوبكر بن قحافة من كان يعبد محمدًا فان محمدًا قدمات ومن كان يعبد اله محمد فانه حتى لا يموت وقرء هذه الأية وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ فرجع القوم الى قوله - دیکھو ملل محل جلد ثالث ترجمہ یہ ہے کہ عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو میں اپنی اسی تلوار سے اُس کو قتل کر دوں گا بلکہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسی بن مریم اُٹھائے گئے اور ابو بکر نے کہا کہ جو شخص محمد (۴۹) صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے تو وہ تو ضر ور فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے نہیں مرے گا یعنی ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کایہ فرمانا کہ جو شخص حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ کلمہ منہ پر لائے گا کہ وہ مر گئے ہیں تو میں اس کو اپنی اس تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کو اپنے کسی خیال کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بہت غلو ہو گیا تھا اور وہ اس کلمہ کو جو آنحضرت مر گئے کلمہ کفر اور ارتداد سمجھتے تھے۔ خدا تعالیٰ ہزارہا نیک اجر حضرت ابوبکر کو بخشے کہ جلد تر اُنہوں نے اس فتنہ کو فرو کر دیا اور نص صریح کو پیش کر کے بتلا دیا کہ گذشتہ تمام نبی مرگئے ہیں اور جیسا کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کو قتل کیا در حقیقت اس تصریح سے بھی بہت سے فیج اعوج کے کذابوں کو تمام صحابہ کے اجتماع سے قتل کر دیا گویا چار کذاب نہیں بلکہ پانچ کذاب مارے۔ یا الہی ان کی جان پر کروڑہا رحمتیں نازل کر آمین ۔ اگر اس جگہ خلت کے یہ معنے کئے جائیں کہ بعض نبی زندہ آسمان پر جا جا بیٹھے ہیں جب تو اس صورت میں حضرت عمر حق بجانب ٹھہرتے ہیں اور یہ آیت ان کو ۴۹ کے آل عمران ۱۴۵