تحفۂ غزنویہ — Page 574
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷۴ تحفه غزنویه فرمایا کہ وہ بھی مرے گا جیسا کہ پہلے تمام نبی مر گئے ۔ ایسا ہی تفسیر صافی زیر آیت مذکورہ جلد اول میں لکھا ہے۔ فسيخلوا كما خلوا بالموت او القتل یعنی حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے ایسا ہی گزر جائے گا جیسا کہ دوسرے نبی موت یا قتل کے ساتھ دنیا سے گذر گئے ۔ اب ظاہر ہے کہ ان تمام تفسیر والوں نے لفظ خــلـــت کے معنے ماتت ہی کیا ہے یعنی اس آیت کے یہی معنے کئے ہیں کہ جیسے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام فوت ہو گئے ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پائیں گے۔ اب دیکھو کہ حضرت مسیح کی موت پر یہ کس قدر روشن ثبوت ہے جو تمام تفسیروں والے یک زبان ہو کر بول رہے ہیں کہ پہلے جس قدر دنیا میں نبی آئے سب فوت ہو چکے ہیں۔ ماسوا اس کے ہر ایک ایماندار کا یہ فرض ہے کہ اس مقام میں جن معنوں کی طرف خود اللہ جل شانہ نے اشارہ فرمایا ہے اُنہی معنوں کو درست سمجھے اور اس کے مخالف معنوں کو زیغ اور الحاد یقین کرے۔ اور یہ بات نہایت بدیہی اور اظہر من الشمس ہے کہ الله جل شانہ نے آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کے کی تفسیر میں آپ ہی فرما دیا ہے آفَابِنُ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ لے پس اس ساری آیت کے یہ معنے ہوئے کہ پہلے تمام نبی اس دنیا سے موت یا قتل سے گذر چکے ہیں ۔ سواگر یہ نبی بھی انہی کی طرح موت یا قتل سے گزر جائے تو کیا تم دین سے پھر جاؤ گے۔ اس جگہ یہ نکتہ یا درکھنے کے لائق ہے کہ اس مقام میں خدا تعالیٰ نے دنیا سے گزر جانے کے دو ہی طور پر معنے قرار دیئے ہیں ایک یہ کہ بذریعہ موت حتف انف یعنی طبعی موت کے انسان مر جائے اور دوسرے یہ کہ مارا جائے یعنی قتل کیا جائے ۔ غرض خدا تعالیٰ نے خلت کے لفظ کو موت یا قتل میں محصور کر دیا ہے ۔ پس ظاہر ہے کہ اگر کوئی تیسراشق بھی خدا تعالیٰ کے علم میں ہوتا تو خلت کے ال عمران ۱۴۵