تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 553 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 553

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۵۳ تحفه غزنویه سچ سچ کہتا ہوں کہ اعتراض اس صورت میں ہوتا تھا جبکہ باوجود اس قدر انکسار اور خوف اور تذلل آتھم کے جو اُس نے ظاہر کیا اور باوجود اس کے کہ وہ مارے غم کے دیوانہ وار ہو گیا اور آئندہ مقابلہ اور مباحثہ سے زبان بند کر لی پھر بھی خدا تعالیٰ اپنی شرط کا کچھ بھی اس کو فائدہ نہ پہونچاتا اور سخت گیری سے میعاد کے اندر ہی اُس کی زندگی کو ختم کر دیتا۔ کیا اس سے خدا کی پاک صفات کی معرفت حاصل نہیں ہوتی کہ اُس نے آتھم کی تفرع اور خوف کا بھی اُسے فائدہ پہنچا دیا اور پھر پیشگوئی کی منشاء کے موافق اُس کے رشتہ حیات کو بھی توڑ دیا تا ثابت ہو کہ جس قدر آئھم نے انکسار اور خوف ظاہر کیا بظاہر اس کی پاداش یہ تھی کہ کم سے کم دس سال اس کو اور زندگی دی جاتی تا بموجب آیت مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ وہ اپنے دِلی خوف کی پوری پاداش کو پالیتا لیکن خدا تعالیٰ نے اس لئے اس کو جلد ہلاک کر دیا کہ تا پادری لوگ نادان لوگوں کو دھوکہ نہ دیں اور اپنے مذہب کی حقانیت پر اس کی زندگی کو دلیل نہ ٹھہرائیں۔ میں تو اُسی وقت ڈر گیا تھا جبکہ عام مجمع میں آتھم نے اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور رونے والی صورت بنا کر دونوں ہاتھ اُٹھائے اور ظاہر کیا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتا ہوں ۔ اور اُسی وقت مجھے خیال آیا تھا کہ اب ی شخص اپنی اس ندامت کے اقرار سے خدائے رحیم کے آستانہ پر گرا ہے دیکھئے اس کا نتیجہ کیا ہوگا کیونکہ میں جانتا تھا کہ خدا رحیم ہے اور اُس کی اسی صفت کی وجہ سے یونس نبی پر ابتلا آیا اور جن کے لئے اُس نے چالیس دن تک ایک مہلک عذاب کا وعدہ کیا تھا اُن کے دامن کا ایک ذرہ گوشہ بھی چاک نہ ہوا۔ اور یادر ہے کہ حق کے طالبوں کو اس پیشگوئی اور لیکھرام والی پیشگوئی سے ایک علمی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آتھم کی پیشگوئی باعث اُس کے ڈرنے اور خوف کھانے کے جمالی رنگ پر ظاہر ہوئی الزلزال ۸