تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 552 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 552

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۵۲ تحفه غزنویه مرام عیسائی مذہب کا سچا ہونا ثابت ہوا۔ تم لوگوں کے لئے کیسے فخر کی بات تھی کہ دو شخص دو قوموں میں سے اسلام کے مقابل پر اُٹھے یعنی آتھم اور لیکھرام ۔ اور اُن کو ایک آسمانی فیصلہ کے طور پر سنایا گیا کہ جو شخص جھوٹے مذہب پر ہوگا وہ اُس فریق سے پہلے مرجائے گا کہ جو بچے مذہب پر قائم ہے چنانچہ میری زندگی میں ہی آتھم اور لیکھر ام دونوں مرگئے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہوں اور اگر اسلام سچا نہ ہوتا تو ممکن تھا بلکہ ضروری تھا کہ میں پہلے ان سے مر جاتا ۔ پس خدا سے ڈرو اور اُس فتح کو جو خدا کے کمال فضل سے اسلام کو نصیب ہوئی میرے حسد کے لئے شکست کے پیرا یہ میں بیان مت کرو ۔ دیکھو اس وقت آتھم کہاں ہے اور لیکھرام کس ملک میں ہے ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ کئی برس ہوئے کہ آتھم فوت ہو گیا اور فیروز پور میں اُس کی قبر ہے ۔ پس جبکہ پیشگوئی کی اصل غرض جو میری زندگی میں ہی آٹھم کا فوت ہو جانا تھا پوری ہو چکی تو کیوں بار بار میعاد کا ذکر کر کے روتے ہو اور کہتے ہو کہ فوت تو ہوا مگر میعاد کے اندر فوت نہیں ہوا یہ کیسا بیہودہ عذر ہے۔ اے نادانوں اور خدا کی شریعت کے اسرار سے غافلو ! جبکہ وعید کی پیشگوئی میں خدا کو یہ بھی اختیار ہے کہ تو بہ اور رجوع کرنے سے سرے سے عذاب کو ہی ٹال دیتا ہے تو کیا میعاد کی کمی و بیشی اس پر کوئی اعتراض پیدا کر سکتی ہے ۔ سُبحن اللهِ عَمَّا يَصِفُونَ اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی رحمت اور رحیمانہ رعایت کو مخفی رکھنا نہیں چاہتا ۔ پس جبکہ آتھم نے پیشگوئی کو سن کر اُسی وقت سر جھکا دیا اور زبان نکال کر اور دونوں ہاتھ اُٹھا کر تو بہ اور ندامت کے آثار ظاہر کئے جس کے گواہ ڈاکٹر مارٹن کلارک بھی ہیں اور بہت سے معزز مسلمان اور عیسائی جن میں سے میرے خیال میں خان محمد یوسف خاں صاحب رئیس امرتسر بھی ہیں جو اُس وقت موجود تھے تو کیا اس رجوع نے کوئی حصہ شرط کا پورا نہ کیا۔ میں ل المؤمنون: ۹۲