تحفۂ غزنویہ — Page 551
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۵۱ تحفه غزنویه حامی ہو کر بحث کی ہے اور میں نے اسلام کو حق سمجھ کر اس کی حمایت میں بحث کی ہے۔ اب میں خدا سے الہام پا کر کہتا ہوں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص جھوٹے مذہب کا حامی ہے وہ سچے کے زندہ ہونے کی حالت میں ہی ہاویہ میں گرایا جاوے گا یعنی مرے گا مگر جو بچے مذہب کا حامی ہے وہ سلامت رہے گا۔ اور جھوٹے کی موت پندرہ مہینہ کے اندر اس حالت میں ہوگی جبکہ وہ حق کی طرف کچھ بھی رجوع نہ کرے گا ۔ جب میں یہ ﴿۲۱﴾ پیشگوئی بیان کر چکا جس کا یہ خلاصہ ہے تو اُسی وقت آتھم نے زبان نکالی اور تو بہ کرنے والوں کی طرح دونوں ہاتھ اُٹھائے اور دجال کہنے سے اپنی پشیمانی ظاہر کی ۔ پس بلا شبہ ایک عیسائی کی طرف سے یہ ایک رجوع ہے جس کے منتر سے زیادہ مسلمان اور عیسائی گواہ ہیں اور بعد اس کے برابر پندرہ مہینے تک عبد اللہ آتھم کا گوشۂ تنہائی میں بیٹھنا اور امرتسر کے عیسائیوں کا ترک صحبت کرنا اور قانو نا نالش کرنے کا حق رکھ کر پھر بھی نالش نہ کرنا اور اقرار کرنا کہ میں ان لوگوں کی طرح حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا نہیں مانتا اور با وجود چار ہزار روپیہ انعام پیش کرنے کے قسم کھانے سے انکار کرنا اور میعاد پیشگوئی میں ایک حرف بھی رڈ اسلام میں نہ لکھنا اور روتے رہنا اور برخلاف اپنی قدیم عادت کے ترک مباحثہ مسلمانوں سے کرنا یہ تمام ایسی باتیں ہیں کہ اگر انسان مفسد اور سیہ دل نہ ہو تو ضرور ان سے نتیجہ نکالے گا کہ بلا شبہ عبد اللہ آتھم پیشگوئی کے سننے کے بعد ڈرا اور اسلامی عظمت کو دل میں بٹھایا۔ لہذا ضرور تھا کہ بقدرا اپنے رجوع کے الہامی شرط سے فائدہ اُٹھاتا۔ پھر ان سب باتوں سے قطع نظر کر کے وہ شخص کیسا مسلمان ہے کہ جو اس قسم کے مذہبی مباحثہ میں جس کا نعوذ باللہ میرے مغلوب ہونے کی حالت میں اثر بد اسلام پر پڑتا ہے پھر بھی کہے جاتا ہے کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ اے نادان اگر پیشگوئی جھوٹی نکلی تو پھر تجھے عیسائی ہو جانا چاہیے کیونکہ اس صورت میں