تحفۂ غزنویہ — Page 542
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۴۲ تحفه غزنویه اقول ۔ کیوں میاں عبدالحق کیا یہ تم نے سچ بولا ہے۔ کیا اب بھی ہم لعنۃ اللہ على الکاذبین نہ کہیں۔ شاباش! عبد اللہ غزنوی کا خوب تم نے نمونہ ظاہر کیا۔ شاگرد ہوں تو ایسے ہوں بھلا اگر بچے ہیں۔ تو ان مجامع اور مجالس کی ذرہ تشریح تو کرو جن میں میں شرمندہ ہوا اس قدر کیوں جھوٹ بولتے ہو کیا مرنا نہیں ہے؟ بھلا ان مباحثات کی ۱۲ عبارات تو لکھو جن میں تم یا تمہارا کوئی اور بھائی غالب رہا ورنہ نہ میں بلکہ آسمان بھی یہی کہہ رہا ہے کہ لعنة اللہ علی الکاذبین۔ میری طرف سے اتمام حجت اس سے زیادہ کیا ہو سکتا تھا کہ میں نے قرآن سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ حدیث سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے اور ان کی عمر ایک سو پچھیں برس کی تھی ۔ معراج کی حدیث نے ثابت کر دیا کہ وہ مردوں میں جاملے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے آسمان پر حضرت یحیی کے پاس انہیں دیکھا۔ کیا اب بھی ان کے مرنے میں کسر باقی رہ گئی۔ تمام صحابہ کا اُن کی موت پر اجماع ہو گیا اور اگر اجماع نہیں ہوا تھا تو ذرہ بیان تو کرو کہ جب حضرت عمر کے غلط خیال پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور پھر دوبارہ دنیا میں آئیں گے حضرت ابوبکر نے یہ آیت پیش کی کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ تو حضرت ابوبکر نے کیا سمجھ کر یہ آیت پیش کی تھی اور کونسا استدلال مطلوب تھا جو مناسب محل بھی تھا اور صحابہ نے اس کے معنے کیا سمجھے تھے اور کیوں مخالفت نہیں کی تھی اور کیوں اس جگہ لکھا ہے کہ جب یہ آیت صحابہ نے سنی تو اپنے خیالات سے رجوع کر لیا۔ اسی طرح میں نے حدیثوں سے ثابت کر دیا ہے کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا اور اس کے ظہور کا یہی زمانہ ہے جیسا کہ حدیث یکسر الصلیب سے سمجھا جاتا ہے۔ ال عمران: ۱۴۵