تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 541 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 541

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۴۱ تحفه غزنویه کے مانگنے میں کچھ قصور نہیں ہے بلکہ حسب آیت تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ے ان کی طبیعت ہی ان بد بخت کفار کے مشابہ واقع ہوئی ہے جو خدا تعالیٰ کے نشانوں کو قبول نہیں کرتے تھے اور اپنی طرف سے اختراع کر کے درخواستیں کرتے تھے کہ ایسے ایسے نشان دکھاؤ لیکن اگر افسوس ہے تو صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے مولوی کہلا کر ہنسی ٹھٹھا اپنا شیوہ بنالیا ہے۔ جو شخص 1 عبدالحق کے اشتہار کو غور سے پڑھے گا اس کو قبول کرنا پڑے گا کہ انہوں نے اخویم مولوی عبد الکریم صاحب کا شرارت اور بے ادبی سے ذکر کر کے ان کی ٹانگ کی درستی یا آنکھ کی نظر کی نسبت جو نشان مانگا ہے یہ ایک اوباشانہ طریق پر ٹھٹھا کیا ہے جو کسی پر ہیز گار اور نیک بخت کا کام نہیں ہے ۔ پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک با تیں۔ انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہنچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے ۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیا کہ لَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ یعنی لوگوں کے ایسے نام مت رکھو جو ان کو بُرے معلوم ہوں تو پھر بر خلاف اس آیت کے کرنا کن لوگوں کا کام ہے لیکن اب تو نہ ہم عبد الحق پر افسوس کرتے ہیں نہ اس کے دوسرے پر گیا رفیقوں پر کیونکہ ان لوگوں کا ظلم اور نا انصافی اور دروغ گوئی اور افتر احد سے گذر گیا ہے اسی اشتہار کو پڑھ کر دیکھ لو کہ کس قدر جھوٹ سے کام لیا ہے کیا کسی جگہ بھی خدا تعالیٰ سے حیا کی ہے چنانچہ ہم بطور نمونہ بطرز قولہ واقول اس ظالم شخص کے جھوٹوں کا ذخیرہ ذیل میں لکھ دیتے ہیں جو اسی اشتہار میں اس نے استعمال کئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ قوله - مرزا بار ہا متفرق مواضع کے مباحثات میں شرمندہ اور لا جواب ہوا اور ہر مجمع میں خائب اور خاسر اور نا مرادرہا۔ البقرة: ١١٩ ٢ الحجرات: ۱۲