تحفۂ غزنویہ — Page 540
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۴۰ تحفه غزنویه زجر اور تو یخ سے جواب دیا گیا تھا اور قرآن شریف میں اقتراحی نشانوں کے مانگنے والوں کو یہ جواب دیا گیا تھا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً لے یعنی خدا تعالیٰ کی شان اس تہمت سے پاک ہے کہ کسی اس کے رسول یا نبی یا ملہم کو یہ قدرت حاصل ہو کہ جو الوہیت کے متعلق خارق عادت کام ہیں ان کو وہ اپنی 10 قدرت سے دکھلائے اور فرمایا کہ ان کو کہہ دے کہ میں تو صرف آدمیوں میں سے ایک رسول ہوں جو اپنی طرف سے کسی کام کے کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ محض امرالہی کی پیروی کرتا ہوں ۔ پھر مجھ سے یہ درخواست کرنا کہ یہ نشان دکھلا اور یہ نہ دکھلا سراسر حماقت ہے ۔ جو کچھ خدا نے کہا وہی دکھلا سکتا ہوں نہ اور کچھ ۔ اور انجیل میں خود تراشیدہ نشان مانگنے والوں کو صاف لفظوں میں حضرت مسیح مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اس زمانہ کے حرام کا رلوگ مجھ سے نشان مانگتے ہیں ان کو بجز یونس نبی کے نشان کے اور کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا یعنی نشان یہ ہوگا کہ باوجود دشمنوں کی سخت کوشش کے جو مجھے سولی پر ہلاک کرنا چاہتے ہیں میں یونس نبی کی طرح قبر کے پیٹ میں جو مچھلی سے مشابہ ہے زندہ ہی داخل ہوں گا اور زندہ ہی نکلوں گا اور پھر یونس کی طرح نجات پا کر کسی دوسرے ملک کی طرف جاؤں گا۔ یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف تھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے جیسا کہ اُس حدیث سے ثابت ہے کہ جو کنز العمال میں ہے یعنی یہ کہ عیسی علیہ السلام صلیب سے نجات پا کر ایک سرد ملک کی طرف بھاگ گئے تھے یعنی کشمیر جس کے شہر سری نگر میں ان کی قبر موجود ہے۔ غرض جب حضرت مسیح سے ان کے دشمنوں نے نشان مانگا اور میاں عبد الحق کی طرح بعض خود تراشیدہ نشان پیش کئے کہ ہمیں یہ دکھلاؤ اور یہ دکھلاؤ تو حضرت عیسی علیہ السلام کا وہی جواب تھا جو ابھی ہم نے تحریر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ میاں عبد الحق کا ایسے اقتراحی نشان ا بنی اسرائیل ۹۴