تحفۂ غزنویہ — Page 539
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۳۹ تحفه غزنویه م الذله کا مصداق ہے تو اس کو عبدالحق کی وکالت کی ضرورت نہیں میں دوسو کوس تک کے کرایہ کا خود ذمہ دار ہو سکتا ہوں چاہیے کہ وہ کسی سے قرض لے کر لاہور پہنچ جائے اور اپنے شہر کے کسی رئیس کا سار ٹیفکیٹ مجھے دکھلا دے کہ حقیقت میں اس مولوی یا پیر زادہ پر سخت رزق کی مار نا زل ہے قرضہ لے کر لاہور میں پہنچا ہے ۔ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ کرایہ میں دے دوں گا بشرطیکہ کوئی نام کا مولوی یا پیر زادہ نہ ہونا می ہو جیسے نذیر حسین دہلوی وغیرہ۔ اور اگر یہ تجویز منظور نہیں تو صرف ضلع لاہور امرتسر گورداسپوره 9 لدھیانہ کے مولوی اور مشائخ اکٹھے ہو جائیں ان میں سے بھی بشرط مذکورہ بالا ہر ایک مصیبت زدہ کا کرایہ میں دے دوں گا۔ وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاعلموا انكم سترجعون الى الله ثم تُسئلون پھر میاں عبد الحق نے یہ کارروائی کی ہے کہ یہ عذر کر کے جس کا ابھی ہم نے جواب دیا ہے اپنی طرف سے ٹھٹھے اور جنسی سے ایک نشان مانگا ہے اور اس ٹھٹھے میں گذشتہ منکرین سے کم نہیں رہے ۔ کیونکہ عرب کے لوگوں نے اس قسم کے ہنسی اور ٹھٹھے سے کبھی نشان نہیں مانگا کہ فلاں صحابی کی ٹانگ کمزور ہے وہ درست ہو جائے یا اس کی کسی آنکھ میں بصارت نہیں وہ ٹھیک ہو جائے ۔ ہاں مکہ کے لوگوں نے یہ نشان مانگا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر سونے کا ہو جائے اور اس کے ارد گر دنہریں بھی جاری ہوں اور نیز یہ کہ آپ ان کے دیکھتے ہوئے آسمان پر چڑھ جائیں اور دیکھتے دیکھتے آسمان پر سے اتر آئیں اور خدا کی کتاب ساتھ لاویں اور وہ اس کو ہاتھ میں لے کر ٹول بھی لیں تب ایمان لائیں گے۔ اس درخواست میں اگر چہ جہالت تھی لیکن میاں عبدالحق کی طرح ایذا دینے والی شرارت نہ تھی ۔ ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام سے لوگوں نے نشان مانگے تھے لیکن ظاہر ہے کہ اُن درخواست کنندہ لوگوں کو ان کے منہ مانگے نشان نہیں دیئے گئے تھے بلکہ آل عمران ۱۱۳