تحفۂ غزنویہ — Page 538
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۳۸ تحفه غزنویه خواہ اُس ارادہ کو کسی ملہم پر ظاہر کیا ہو یا نہ کیا ہو دعا اور صدقہ اور تو بہ اور استغفار سے مل سکتا ہے کس قدر سچا اور مغز شریعت اور تمام نبیوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے مگر کیا ممکن ہے کہ ایک نفسانی آدمی جو مجھ سے مخالفت رکھتا ہے وہ اس نکتہ معرفت کو میرے منہ سے سن کر قبول کر لے گا؟ ہر گز نہیں۔ وہ تو سنتے ہی اس فکر میں لگ جائے گا کہ اس کا کسی طرح رد کرنا چاہیے تاکسی پیشگوئی کی تکذیب کا یہ ذریعہ ٹھہر جائے ۔ اگر اس شخص کو خدا کا خوف ہوتا تو لوگوں کی طرف نہ دیکھتا اور ریا کاری سے غرض نہ رکھتا بلکہ اپنے تئیں خدا کے سامنے کھڑا سمجھتا اور وہی بات منہ پر لاتا جو بپابندی تقویٰ بیان کرنے کے لائق ہوتی ۔ اور ملامت اٹھا تا اور لوگوں کی لعنت سنتا مگر سچائی کی گواہی دے دیتا۔ ولكن اذا غلبت الشقوة فاين السعادة_ دوسر احملہ میاں عبد الحق کا یہ ہے کہ وہ تجویز جو میں نے خدا تعالیٰ کے الہام سے بطور اتمام حجت پیش کی تھی جس کو میں اس سے پہلے بھی بذریعہ اشتہار شائع کر چکا تھا یعنی بیماروں کی شفا کے ذریعہ سے استجابت دعا کا مقابلہ اس تجویز کو میاں عبد الحق منظور نہیں فرماتے اور یہ عذر کرتے ہیں کہ بھلا سارے مشائخ اور علماء ہند وستان و پنجاب کس طرح جمع ہوں اور ان کے اخراجات کا کون متکفل ہو ۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ کیا فضول اور لچر عذر ہے۔ جس حالت میں یہ لوگ قوم کا ہزار ہاروپیہ کھاتے ہیں تو ایسے ضروری کام کے لئے دو چار روپیہ تک کرایہ خرچ کرنا کیا مشکل ہے یہ تو ہم نے قبول کیا کہ یہ لوگ دین کے لئے کوئی تکلیف اپنے پر گوارا نہیں کر سکتے لیکن ایسی ضروری مہم کے لئے کہ ہزار ہا لوگ ان کے پنجہ سے نکلتے جاتے ہیں اور بزعم ان کے وہ کافر بنتے جاتے ہیں چند درہم کرایہ کے لئے جیب سے نکالنا کوئی بڑی مصیبت نہیں اور اگر کوئی شخص ایسا ہی ضُرِبَتْ