تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 536 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 536

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۳۶ تحفه غزنویه ہے کہ اس اعتراض کرتے وقت اس قصہ کو یاد نہیں کرتے اور اس جگہ حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ قال لن ارجع اليهم كذابًا یعنی یونس نے کہا کہ اب میں جھوٹا کہلا کر پھر اس قوم کی طرف ہرگز نہیں جاؤں گا۔ اگر حدیث پر اعتبار ہے تو درمنثور میں اس موقع کی تفسیر میں حدیثیں دیکھ لو اور اگر عیسائیوں کی بائبل پر اعتبار ہے تو یو نہ نبی کی کتاب کو دیکھو آخر کسی وقت تو شرم چاہیے ۔ بے حیائی اور ایمان جمع نہیں ہو سکتے اس نا انصافی اور ظلم کا خدا تعالیٰ کے پاس کیا جواب دو گے کہ تم لوگوں نے نوا پیشگوئی صفائی سے پوری ہوتے دیکھی اس سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور ایک دو پیشگوئیاں جن کو تم لوگ اپنی ہی (1) جہالت سے سمجھ نہ سکے جو مشروط بشرائکہ تھیں ان پر شور مچاد یا مگر یہ شور مجھ سے اور میری پیشگوئیوں سے خاص نہیں ہے۔ بھلا کسی ایسے نبی کا تو نام لوجس کی بعض پیشگوئیوں کی نسبت جاہلوں نے شور نہ مچایا ہو کہ وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ و عید یعنی عذاب کی پیشگوئیوں کی نسبت خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ خواہ پیشگوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرع اور تو بہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے ۔ اس پر صرف یونس کا قصہ ہی گواہ نہیں بلکہ قرآن اور حدیث اور تمام نبیوں کی کتابوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ جب کسی کو عذاب دینے کا ارادہ فرماتا ہے اور اُس پر کوئی بلا نازل کرنا چاہتا ہے تو وہ بلا دعا اور تو بہ اور صدقات سے مل سکتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ جو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے اگر اپنے اس ارادہ پر کسی نبی یا رسول یا محدث کو مطلع کر دے تو اس صورت میں وہی ارادہ پیشگوئی کہلاتا ہے ۔ پس جبکہ مانا گیا ہے کہ وہ ارادہ دعا اور صدقہ اور خیرات سے مل سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ محض اس سبب سے کہ اس ارادہ کی کسی ملہم کو اطلاع بھی دی گئی ہے ٹل نہیں سکتا۔ کیا وہ ارادہ اطلاع