تجلیاتِ الہٰیہ — Page 420
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۱۶ تجليات البسيه بجز ہمارے اور کسی کو کوئی خواب نہیں آتی اور نہ کوئی الہام ہوتا ہے بلکہ ہمارا تجربہ تو یہاں تک ہے کہ بعض وقت ایک کنجری کو بھی جس کا دن رات زنا کاری پیشہ ہے سچے خواب آ سکتے ہیں۔ ایک چور بھی جس کا پیشہ بیگانہ مال کا سرقہ ہے بذریعہ خواب کسی بچے واقعہ پر اطلاع پا سکتا ہے۔ ہمارا دعویٰ جس کو ہم بار بار لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسی خوا ہیں اور ایسے الہام جو کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے ہزاروں تک اُن کی نوبت پہنچ گئی ہو اور کوئی اُن کا مقابلہ نہ کر سکتا ہو یہ مرتبہ صرف ان لوگوں کو ملتا ہے جن کو عنایت الہی نے خاص طور پر (۳۲) اپنا برگزیدہ کر لیا ہے دوسرے کو ہرگز نہیں ملتا اور یہ کہ دوسروں کو شاذ و نادر طور پر کوئی سچی خواہیں آتی ہیں یا الہام ہوتا ہے۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نوع انسان کی بھلائی کے لئے ہے کیونکہ اگر وحی اور الہام کا دوسرے لوگوں پر قطعاً دروازہ بند رہتا تو خدا کے رسولوں پر کامل طور پر یقین کرنا اُن کے لئے مشکل ہو جاتا اور وہ ہرگز سمجھ نہ سکتے کہ درحقیقت ان نبیوں پر وحی نازل ہوتی ہے یا فریب ہے یا صرف وساوس میں مبتلا ہیں کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جس بات کا اس کو نمونہ نہیں دیا جاتا وہ پورے طور پر اس بات کو سمجھ نہیں سکتا اور آخر بدظنی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے شراب خوار قو میں یورپ اور امریکہ کی جن کے دماغ بباعث شراب کے خراب ہو جاتے ہیں اکثر کچی خواب کے وجود سے بھی منکر ہیں کیونکہ اپنے پاس نمونہ نہیں رکھتے۔ پس اسی مصلحت سے کوئی کچی خواب اور کوئی سچا الہام نمونہ کے طور پر لوگوں کو عام طور پر دیا گیا تا جس وقت اُن میں کوئی نبی ظاہر ہو تو دولت قبول سے محروم نہ رہیں اور اپنے دلوں میں سمجھ لیں کہ یہ ایک واقعی حقیقت ہے جس سے چاشنی کے طور پر ہمیں بھی کچھ دیا گیا ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ یہ معمولی لوگ ایک گدا پیشہ کی مانند ہیں جس کے پاس چند روپے یا چند پیسے ہیں مگر خدا کے مرسل اور خدا کے نبی وہ روحانی ملک کئے نوٹ: باقی مسودہ دستیاب نہیں ہو سکا۔ (ناشر)