تجلیاتِ الہٰیہ — Page 419
۴۱۵ تجليات البسيه روحانی خزائن جلد ۲۰ کہ یہ وہی لڑکا ہے جو دعا کے ذریعہ سے پیدا ہوا۔ پس ایسا ہی وقوع میں آیا اور تھوڑے ہی دنوں کے بعد مولوی صاحب کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبدالحی رکھا گیا اور اس کی (۳۰) پیدائش کے زمانہ کے قریب ہی بہت سے پھوڑے اُس کے بدن پر نکل آئے جن کے داغ اب تک موجود ہیں۔ یہ پھوڑے خدا نے اس لئے اُس کے بدن پر پیدا کئے تا کسی کو یہ وہم پیدا نہ ہو کہ یہ اتفاقی معاملہ ہے دعا کا اثر نہیں اور نہ اس کو پیشگوئی پر دلالت قطعی ہے جیسا کہ بعض اوقات ایسا اتفاق ہو جاتا ہے کہ چند آدمی ایک کسی غائب دوست کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس وقت آتے تو اچھا تھا اور ابھی وہ ذکر شروع ہی ہوتا ہے کہ وہ خود بخود آ جاتے ہیں۔ تب لوگ کہتے ہیں۔ آئیے صاحب ابھی ہم آپ کا ذکر ہی کر رہے تھے کہ آپ آ ہی گئے ۔ سوخدا نے اس پیشگوئی کے ساتھ پھوڑوں کا نشان بتلا دیا تا معلوم ہو کہ وہ لڑ کا دعا کے اثر سے پیدا ہوا ہے نہ اتفاقی طور پر ۔ ایسے ہی ہزار ہا میرے پاس نمونے ہیں مگر افسوس میں اس مختصر رسالہ میں ان کا ذکر نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں چھوٹے چھوٹے واقعات کی پیش گوئیاں جبکہ ہزاروں تک ان کی تعداد پہنچ جائے تو اس بات کی قطعی دلیل ٹھہرتی ہیں کہ جس شخص کے ہاتھ پر وہ پیش گوئیاں ظاہر ہوئی ہیں اور جو منجانب اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ درحقیقت منجانب اللہ ہے لیکن جن کے دلوں میں شک اور وسوسہ کی مرض ہے وہ ﴿۳۱﴾ پھر بھی شبہات سے باز نہیں آتے اور فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ فلاں فقیر نے بھی تو ایسی ہی کرامت دکھلائی تھی اور فلاں جوتشی صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی فرمایا تھا جو سچ سچ نکلا ۔ اور اس طرح پر نہ وہ صرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔ اور یہ نادان آنکھ تو رکھتے ہیں مگر وہ آنکھ ہر ایک گوشہ کو دیکھ نہیں سکتی ۔ اور دل تو رکھتے ہیں مگر وہ دل ہر ایک پہلو کو سوچ نہیں سکتا ۔ ہم نے کب اور کس وقت کہا کہ