تجلیاتِ الہٰیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 597

تجلیاتِ الہٰیہ — Page 411

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۰۷ تجليات البسيه چونکہ اُن کی نیتیں درست نہیں اس لئے اعتراض کے وقت اُن کو وہ پیشگوئیاں یاد نہیں رہتیں جو دس ہزار سے بھی زیادہ مجھ سے وقوع میں آگئی ہیں اور جیسا کہ خدا نے فرمایا تھا ویسا ہی ظہور میں آئیں ۔ اور اگر کوئی وعید کی پیشگوئی جو کسی شخص کے عذاب پر مشتمل تھی اپنے وقت سے ٹل گئی ہو تو اس پر شور مچاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان ہی نہیں اور میرے پر حملہ کرنے کے جوش سے تمام نبیوں پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر ڈپٹی آتھم پندرہ مہینے میں نہیں مرا تو آخر چند ماہ بعد میری زندگی میں ہی مرگیا اور پیشگوئی میں صاف یہ لفظ تھے کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مر جائے گا۔ اُس کا دعوی تھا کہ عیسائی مذہب سچا ہے اور میرا دعویٰ تھا کہ اسلام سچا ہے پس خدا نے میری زندگی میں اُس کو (۱۸ ہلاک کر دیا اور مجھے سچا کیا۔ پندرہ مہینے کو بار بار بیان کرنا اور ان امور کا ذکر نہ کرنا کیا یہی ان مولویوں کی دیانتداری ہے؟ نہیں سوچتے کہ یونس نبی کی تو قطعی عذاب کی پیشگوئی تھی جس کی نسبت خبر دی گئی تھی کہ چالیس دن تک بہر حال اس قوم پر عذاب وارد ہو جائے گا مگر وہ عذاب اُن پر وارد نہ ہوا یہاں تک کہ یونس اُن میں سے بہتوں کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا۔ ہائے افسوس! اگر ان لوگوں کی نسبت درست ہوتی تو آتھم کے واقعہ کے بعد جو پیشگوئی لیکھر ام کی نسبت کی گئی تھی جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی اور جس میں صاف طور پر وقت اور قسم موت بتلائی گئی تھی اسی پر غور کرتے کہ کیسی صفائی سے وہ پوری ہوئی مگر کون غور کرے جب تعصب سے دل اندھے ہو گئے۔ اور اگر ایک ذرہ دلوں میں انصاف ہوتا تو ایک نہایت سہل طریق اُن کے لئے مہیا تھا کہ جن پیشگوئیوں کے نہ پورے ہونے پر اُن کو اعتراض ہے وہ لکھ کر میرے سامنے پیش کرتے کہ وہ کس قدر ہیں اور پھر مجھ سے اس بات کا ثبوت لیتے کہ وہ پیشگوئیاں جو پوری ہو گئیں وہ کس قدر ہیں تو اس امتحان سے اُن کے تمام پر دے کھل جاتے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ محل اعتراض اُن کے پاس صرف ایک دو (19)