تجلیاتِ الہٰیہ — Page 410
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۰۶ تجليات البسيه اُس کا بدن خوف سے کانپ اُٹھا اور توبہ کرنے والے کی شکل بنا کر کہا کہ میں نے آنحضرت کو ہرگز دجال نہیں کہا۔ میرے خیال میں اس وقت تمیں سے زیادہ اس جلسہ میں عیسائی موجود ہوں گے جن میں سے ایک ڈاکٹر مارٹن کلارک بھی تھے جو اب تک زندہ موجود ہیں۔ اگر اُن سے حلفاً دریافت کیا جائے تو میں امید نہیں رکھتا کہ وہ خلاف واقعہ بیان کر سکیں یا اس واقعہ کا اخفا کر سکیں۔ پھر باوجود اس کے یہ امر بھی ثابت ہے کہ اس پیشگوئی کے سنتے ہی ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے دل پر سخت بے چینی اور بے قراری طاری ہوگئی اور وہ پیشگوئی کے اثر سے دیوانہ کی طرح ہو گیا اور اکثر روتا تھا اور بعد اس کے دین اسلام کے رد میں ایک سطر بھی اُس نے شائع نہ کی یہاں تک کہ صرف چند ماہ بعد فوت ہو گیا اور میں نے متواتر اشتہاروں سے اس پر حجت پوری کی۔ اور اشتہاروں میں لکھا کہ اگر اُس نے پیشگوئی کی شرط کے موافق اپنے دل میں حق کی طرف رجوع نہیں کیا تو وہ حلفاً بیان کرے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں چار ہزار روپیہ اس حلف کے بعد بلا توقف اس کو دوں گا مگر با وجود عیسائیوں کے اصرار کے کہ حلف اُٹھا لے ) اُس نے قسم نہ کھائی۔ اور اس طرح ٹال دیا کہ قسم کھانا ہمارے مذہب میں منع ہے حالانکہ انجیل سے ثابت ہے کہ پطرس نے قسم کھائی ۔ پولوس نے قسم کھائی اور خود حضرت مسیح نے قسم کھائی۔ پھر منع کیونکر ہوگئی اور اب تک عدالتوں میں عیسائی گواہوں کو قسم دی جاتی ہے بلکہ دوسروں کے لئے اقرار صالح اور عیسائیوں کے لئے خاص طور پر قتسم (۱۷) ہے۔ غرض با وجود اس حیلہ بہانہ کے پھر موت سے بچ نہ سکا اور جیسا کہ میں نے اشتہارات میں شائع کیا تھا میرے آخری اشتہار سے صرف چند مہینے بعد مر گیا اور موت کی بیماری تو انہیں دنوں میں اس کو شروع ہو گئی تھی۔ یہ ہیں ہمارے مخالف مولویوں کے اعتراض جنہوں نے علم قرآن اور حدیث کا پڑھ کر ڈبو دیا۔ اب تک انہیں معلوم نہیں کہ وعید کی پیشگوئی اور وعدہ کی پیشگوئی میں فرق کیا ہے؟ اور اب تک یونس نبی کے قصہ سے بھی بے خبر ہیں جو در منثور میں بھی تفصیل سے مندرج ہے