تجلیاتِ الہٰیہ — Page 409
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۰۵ تجليات البسيه جب یونس کی قوم نے تو بہ اور استغفار کیا اور اُن کے دل ڈر گئے تو خدا تعالیٰ نے اس عذاب کا وارد کرنا موقوف رکھا اور وہ قطعی پیشگوئی ٹل گئی جس کی وجہ سے یونس نبی کو بڑی مصیبت پیش آئی اور اُس نے نہ چاہا کہ کذاب کہلا کر پھر اپنی قوم کو منہ دکھاوے۔ اور وعید کی پیشگوئی کا تو به استغفار یا صدقہ سے ٹل جانا ایک ایسا بد یہی امر ہے کہ کسی فرقہ یا قوم کو اس سے انکار نہیں کیونکہ تمام انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے یہ بات مسلم ہے کہ توبہ استغفار اور صدقہ خیرات بلا رڈ ہو سکتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس بلا کو خدا نے کسی پر وارد کرنا چاہا ہے اگر نبی کو پیش از وقت اُس بلا کا علم دیا جائے تو وہی وعید کی پیشگوئی کہلائے گی ۔ اور اگر کسی نبی کو پیش از وقت اس کا علم نہ دیا جائے تو صرف خدا تعالیٰ کا مخفی ارادہ ہو گا ۔ اس جگہ ان نادان مولویوں کی کس قدر پردہ دری ہوتی ہے جو مجھے اعتراض کر کے کہتے ہیں کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم پندارہ مہینے کی میعاد میں نہیں مرا بلکہ چند ماہ بعد مرا اور نہیں جانتے کہ وہ وعید کی پیشگوئی تھی اور با وجود اس کے یونس کی پیشگوئی کی طرح صرف قطعی نہ تھی بلکہ اس کے ساتھ یہ لفظ ( 10 ) تھے کہ بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے یعنی اُس حالت میں پند شاہ مہینے کے اندر مرے گا کہ جب اس کے دل نے حق کی طرف رجوع نہ کیا ہو لیکن یہ بات عیسائیوں کی شہادت سے بھی ثابت شدہ ہے کہ اُس نے اُسی مجلس میں جب یہ پیشگوئی سنائی گئی تھی حق کی طرف رجوع کر لیا تھا اور ڈر گیا تھا کیونکہ جب میں نے مباحثہ کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد ساٹھ یا ستر گواہوں کے روبرو جس میں سے بعض مسلمان اور بعض عیسائی تھے ڈاکٹر مارٹن کلارک کی کوٹھی پر بلند آواز سے یہ کہا کہ آپ نے اپنی فلاں کتاب میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجال رکھا ہے اس لئے خدا نے ارادہ کیا ہے کہ پندرہ مہینے کے اندر وہ آپ کو ہلاک کرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرو۔ تب وہ اس پیشگوئی کو سنتے ہی ڈر گیا اور اس کا رنگ زرد ہو گیا اور اُس نے اپنی زبان باہر نکالی اور دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھے اور حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے مجھ پر “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)