تجلیاتِ الہٰیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 597

تجلیاتِ الہٰیہ — Page 408

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۰۴ تجليات البسيه وہ پیشگوئی جو پانچ زلزلوں کے بارے میں ہے بنتفریح بیان کر دی ہے تا تم پر حجت ہو اور تا تمہاری گمراہی پر موت نہ ہو۔ اے عزیز! خدا سے مت لڑو کہ اس لڑائی میں تم ہرگز فتح یاب نہیں ہو سکتے ۔ خدا کسی قوم پر ایسے سخت عذاب نازل نہیں کرتا اور نہ کبھی اُس نے کئے جب تک اُس قوم میں اُس کی طرف سے کوئی رسول نہ آیا ہو یعنی جب تک اُس کا بھیجا ہوا اُن میں ظاہر نہ ہوا ہو ۔ سو تم خدا کے قانونِ قدیم سے فائدہ اُٹھاؤ اور تلاش کرو کہ وہ کون ہے جس کے لئے تمہاری آنکھوں کے روبرو آسمان پر رمضان کے مہینہ میں کسوف خسوف ہوا اور زمین پر ۱۳ طاعون پھیلی اور زلزلے آئے اور یہ پیشگوئیاں قبل از وقت کس نے تم کو سنا ئیں اور کس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں ۔ اُس شخص کو تلاش کرو کہ وہ تم میں موجود ہے اور وہ یہی ہے کہ جو بول رہا ہے۔ وَلَا تَايْسُوا مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَا يَسُ مِنْ زَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ میں نے اس جگہ تک مضمون کو ختم کیا تھا کہ آج پھر ۱۵ / مارچ ۱۹۰۶ ء کو بروز پنج شنبه وقت صبح یہ الہام ہوا ۔ خدا نکلنے کو ہے انت منی بمنزلة بروزى۔ وعد الله إن وعد الله لا يُبدل یعنی خدا ان پانچ زلزلوں کو لانے سے اپنا چہرہ ظاہر کرے گا اور اپنے وجود کو دکھلا دے گا اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میں ہی ظاہر ہو گیا یعنی تیرا ظہور بعینم میرا ظہور ہوگا یہ خدا کا وعدہ ہے کہ پانچ زلزلوں کے ساتھ خدا اپنے تئیں ظاہر کرے گا اور خدا کا وعدہ نہیں ملے گا اور وہ ضرور ہوکر رہے گا ۔ یادر ہے کہ پیشگوئی دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک صرف وعید کی جس سے مقصود صرف سزا دینا اور عذاب دینا ہوتا ہے۔ ایسی پیشگوئی اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو تو کسی کے ڈرنے اور تو بہ اور استغفار یا صدقہ دعا سے مل سکتی ہے جیسا کہ یونس نبی کی پیشگوئی ٹل گئی (۱۳) اور ظہور میں نہ آئی کیونکہ یونس نبی کو وعید کے طور پر بتلایا گیا تھا کہ چالیس دن تک تیری قوم پر عذاب نازل ہو جائے گا اور یہ پیشگوئی قطعی طور پر بغیر کسی شرط کے تھی مگر تب بھی يوسف : ۸۸