تجلیاتِ الہٰیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 597

تجلیاتِ الہٰیہ — Page 404

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۰۰ تجليات البسيه سمجھنا چاہیے کہ اس حدیث میں مسیح موعود کو ایک ڈائن قرار دیا گیا ہے جو نظر کے ساتھ ہر ایک کا کلیجہ نکالے گا بلکہ معنے حدیث کے یہ ہیں کہ اُس کے نفحات طیبات یعنی کلمات اس کے جہاں تک زمین پر شائع ہوں گے تو چونکہ لوگ اُن کا انکار کریں گے اور تکذیب سے پیش آئیں گے اور گالیاں دیں گے اس لئے وہ انکار موجب عذاب ہو جائے گا ۔ حدیث بتلا رہی ہے کہ مسیح موعود کا سخت انکار ہو گا جس کی وجہ سے ملک میں مری پڑے گی اور سخت سخت زلزلے آئیں گے اور امن اُٹھ جائے گا۔ ورنہ یہ غیر معقول بات ہے کہ خواہ نخواہ نیکو کار اور نیک چلن آدمیوں پر طرح طرح کے عذاب کی قیامت آوے ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے زمانوں میں بھی نادان لوگوں نے ہر ایک نبی کو منحوس قدم سمجھا ہے اور اپنی شامت اعمال اُن پر تھاپ دی ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ نبی عذاب کو نہیں لاتا بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لئے نبی کو لاتا ہے۔ اور اُس کے قائم ہونے کے لئے ضرورت پیدا کرتا ہے اور سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا م اس حدیث سے بھی ثابت ہے کہ مسیح کے وقت میں جہاد کا حکم منسوخ کر دیا جائے گا جیسا کہ صحیح بخاری میں بھی مسیح موعود کی صفات میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح موعود جب آئے گا تو جنگ اور جہاد کو موقوف کر دے گا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ جب مسیح کی روحانی توجہ سے قہری نشان ظاہر ہوں گے اور لاکھوں انسان طاعون اور زلازل وغیرہ سے مریں گے تو پھر تلوار کے ذریعہ سے کسی کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور خدا اس سے رحیم تر ہے کہ دو قسم کے شدید عذاب ایک ہی وقت میں کسی قوم پر نازل کرے یعنی ایک قہری نشانوں کا عذاب اور دوسرا انسانوں کے ذریعہ سے تلوار کا عذاب۔ اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیا ہے کہ یہ دو قسم کے عذاب ایک وقت میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ منہ بنی اسرائیل : ۱۶