تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 65

روحانی خزائن جلد ۲۰ تذكرة الشهادتين سکتا ہے کہ کیا کبھی خدا کی یہ عادت ہوئی اور جب سے انسان کو اُس نے پیدا کیا ہے کیا کبھی اُس نے ایسا کام کیا کہ جو شخص ایسا بدطینت اور چالاک اور گستاخ اور مفتری ہے کہ تئیس برس تک ہر روز نئے دن اور نئی رات میں خدا تعالیٰ پر افترا کر کے ایک نئی وحی اور نیا الہام اپنے دل سے تراشتا ہے اور پھر لوگوں کو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی نازل ہوئی ہے۔ اور خدا تعالیٰ بجائے اس کے کہ ایسے شخص کو ہلاک کرے اپنے زبر دست نشانوں سے اس کی تائید کرے اُس کے دعویٰ کے ثبوت کے لئے آسمان پر چاند اور سورج کو پیشگوئی کے موافق گرہن میں ڈالے اور اس طرح پر وہ پیشگوئی جو پہلی کتابوں اور قرآن شریف اور حدیثوں میں اور خود اس کی کتاب براہین احمدیہ میں تھی پوری کر کے دنیا میں دکھاوے اور بچوں کی طرح عین صدی کے سر پر اُس کو مبعوث کرے اور مین صلیبی غلبہ کے وقت میں جس کے لئے کا سر صلیب مسیح موعود آنا چاہیے تھا اُس کو اس دعوی کے ساتھ کھڑا کر دے اور ہر ایک قدم میں اس کی تائید کرے اور دس لاکھ سے زیادہ اس کی تائید میں نشان دکھاوے اور اس کو دنیا میں عزت دے اور زمین پر اُس کی قبولیت پھیلا دے اور صدہا پیشگوئیاں اُس کے حق میں پوری کرے اور نبیوں کے مقرر کردہ دنوں میں جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے مقرر ہیں اس کو پیدا کرے اور اُس کی دعائیں قبول فرمادے اور اُس کے بیان میں تا خیر ڈال دے اور ایسا ہی ہر ایک پہلو سے اُس کی تائید کرے حالانکہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے اور ناحق عمداً اُس پر افترا کر رہا ہے۔ کیا بتا سکتے ہو کہ یہ کرم وفضل کا معاملہ پہلے مجھ سے خدا تعالیٰ نے کسی مفتری سے کیا۔ پس اے بندگانِ خدا غافل مت ہو اور شیطان تمہیں وساوس میں نہ ڈالے۔ یقینا سمجھو کہ یہ وہی وعدہ پورا ہوا ہے جو قدیم سے خدا کے پاک نبی کرتے آئے ہیں۔ آج خدا کے مرسل اور (۶۴) شیطان کا آخری جنگ ہے اور یہ وہی وقت اور وہی زمانہ ہے جیسا کہ دانیال نبی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا تھا۔ میں ایک فضل کی طرح اہل حق کے لئے آیا پر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا اور مجھے کافر