تذکرة الشہادتین — Page 55
روحانی خزائن جلد ۲۰ تذكرة الشهادتين بد قسمت مولویوں سے بحث ہورہی تھی تب آٹھ آدمی بر ہنہ تلواریں لے کر شہید مرحوم کے سر پر کھڑے ﴿۵۳) تھے ۔ پھر بعد اس کے وہ فتویٰ کفر رات کے وقت امیر صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا اور یہ چالا کی کی گئی کہ مباحثہ کے کاغذات ان کی خدمت میں عمداً نہ بھیجے گئے اور نہ عوام پر اُن کا مضمون ظاہر کیا گیا۔ یہ صاف اس بات پر دلیل تھی کہ مخالف مولوی شہید مرحوم کے ثبوت پیش کردہ کا کوئی رد نہ کر سکے مگر افسوس امیر پر کہ اُس نے کفر کے فتویٰ پر ہی حکم لگا دیا اور مباحثہ کے کاغذ طلب نہ کئے حالانکہ اُس کو چاہیے تو یہ تھا کہ اُس عادل حقیقی سے ڈر کر جس کی طرف عنقریب تمام دولت و حکومت کو چھوڑ کر واپس جائے گا خود مباحثہ کے وقت حاضر ہوتا۔ بالخصوص جبکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اس مباحثہ کا نتیجہ ایک معصوم بے گناہ کی جان ضائع کرنا ہے تو اس صورت میں مقتضا خدا ترسی کا یہی تھا کہ بہر حال افتان و خیزاں اُس مجلس میں جاتا اور نیز چاہیے تھا کہ قبل ثبوت کسی جرم کے اس شہید مظلوم پر یہ سختی روا نہ رکھتا کہ ناحق ایک مدت تک قید کے عذاب میں ان کو رکھتا اور زنجیروں اور ہتھکڑیوں کے شکنجہ میں اُس کو دبایا جاتا اور آٹھ سپاہی برہنہ شمشیروں کے ساتھ اس کے سر پر کھڑے کئے جاتے اور اس طرح ایک عذاب اور رعب میں ڈال کر اُس کو ثبوت دینے سے روکا جاتا۔ پھر اگر اُس نے ایسا نہ کیا تو عادلانہ حکم دینے کے لئے یہ تو اُس کا فرض تھا کہ کا غذات مباحثہ کے اپنے حضور میں طلب کرتا بلکہ پہلے سے یہ تاکید کر دیتا کہ کا غذات مباحثہ کے میرے پاس بھیج دینے چاہئیں۔ اور نہ صرف اس بات پر کفایت کرتا کہ آپ ان کا غذات کو دیکھتا بلکہ چاہیے تھا کہ سرکاری طور پر ان کا غذات کو چھپوا دیتا کہ دیکھو کیسے یہ شخص ہمارے مولویوں کے مقابل پر مغلوب ہو گیا اور کچھ ثبوت قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں اور نیز جہاد کی ممانعت میں اور حضرت مسیح کے فوت ہونے کے بارے میں نہ دے سکا۔ ہائے وہ معصوم اس کی نظر کے سامنے ایک بکرے کی طرح ذبح کیا گیا اور باوجود صادق ہونے کے اور باوجود پورا ثبوت دینے کے اور باوجود ایسی استقامت کے کہ صرف اولیاء کو دی جاتی ہے پھر بھی اُس کا پاک جسم پتھروں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ اور اُس کی بیوی اور اُس کے یتیم بچوں کو خوست سے گرفتار کر کے بڑی ذلت اور عذاب کے ساتھ کسی اور جگہ حراست میں بھیجا گیا۔ اے نادان کیا مسلمانوں میں اختلاف مذہب اور رائے کی یہی سزا ہوا کرتی ہے۔ تو نے کیا سوچ کر یہ خون کر دیا۔ (۵۴)